
اپنی تلاش ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
افق کے پار میری تلاش
میں عشق کی راہوں سے آگے نکل آیا ہوں
اپنے ہی دل کی صدا کو ڈھونڈنے آیا ہوں
نئی زندگی کی چاہ لیے چلتا ہوں
اپنی ہی کھوئی ہوئی پہچان لیے چلتا ہوں
دل وہیں رہ گیا جہاں کبھی ٹھہرا تھا
میں آج نئے راستوں کا مسافر ہوں
پیچھے سے کوئی آواز مجھے بلاتی ہے
مگر میں مڑ کر دیکھنا نہیں چاہتا
جو میرا نہ تھا، اسے اپنا کہہ نہ سکوں گا
جو گزر گیا، اسے پھر سے جگا نہ سکوں گا
اگر میرا دل تیرے پاس رہ گیا ہے
تو رکھ لے، میں اب خود کو لینے آیا ہوں
میں کسی کا نہیں، نہ کسی کا سایہ ہوں
میں اپنی ہی ذات کا ایک راستہ ہوں
میں نے جسے اپنا سمجھا، وہ میرا نہ تھا
پھر بھی دل نے اسے کبھی برا نہ کہا
جس درد کی راہوں میں خود کو چھوڑ آیا تھا
آج اسی راستے سے آگے نکل آیا ہوں
میں آزادی کی ہوا کو محسوس کرنا چاہتا ہوں
افق کے پار اپنی دنیا تلاش کرنا چاہتا ہوں
میں اپنے آپ سے ملنے نکلا ہوں
یہ سفر ہی میری نئی پہچان ہے