
کیا میں ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
کیا میں بھی ترے خیال کے دریچوں میں ہوں ابھی
یا وقت کی غبار میں کھویا ہوا کوئی
کیا میری یاد دل کے کسی گوشے میں جاگتی
یا نام میرا لب پہ بھی آتا نہیں کبھی
وہ شام، جب ہوا نے ترے بال چومے تھے
اور چاند تیرے چہرے پہ خاموش جھک گیا
کیا اس گھڑی کی نرم سی خوشبو بچی ہے اب
یا اس کے ساتھ میرا بھی قصہ بکھر گیا
میں نے ترے فراق کو آنکھوں میں رکھ لیا
جیسے چراغ رات کی پلکوں پہ جلتا ہو
تو دور ہے، مگر تری آہٹ کے آس پاس
دل آج بھی کسی ترے آنے کو سنتا ہو
کیا تجھ کو یاد ہے وہ دریچے کی چاندنی
جس میں ہماری بات نے اک خواب بو دیا
کیا وہ ہنسی، جو پھول کی مانند کھل اٹھی
اب بھی ترے سکوت کے پردے میں ہے کہیں
میں نے ہر ایک راہ سے تیرا پتا لیا
ہر موڑ پر ہوا سے ترا نام پوچھا ہے
شہرِ وفا میں کوئی نشاں مل نہ سکا مگر
دل نے ترے خیال کا در بند نہ کیا
کبھی جو بارشوں میں تری یاد آ گئی
مٹی نے جیسے پیار کا آنچل پہن لیا
ہر قطرہ میرے دل پہ ترا خط لکھتا رہا
ہر بوند نے فراق کا موسم سنا دیا
تو پوچھتا نہیں کہ میں کیسا ہوں آج کل
میں بھی ترے سکوت سے شکوہ نہیں کروں
بس اتنا جان لے کہ ترے بعد بھی یہاں
میں اپنی دھڑکنوں میں ترا نام رکھتا ہوں
کیا میری آنکھ میں کوئی تصویر رہ گئی
جو خواب بن کے رات کے سینے میں جاگتی
کیا تیرے دل کے شہر میں اک خاموش راستہ
اب بھی مری طرف کو کبھی مڑ کے دیکھتا
یہ عشق ہے کہ خاک میں خوشبو کا سلسلہ
جتنا دباؤ، اتنا ہی گہرا نکھرتا ہے
میں بجھ بھی جاؤں، پھر بھی مری خاک سے کہیں
تیرا خیال شعلۂ جاں بن کے اٹھتا ہے
کیا میں بھی تری یاد کے موسم میں ہوں کہیں
یا صرف اپنے دل کی صدا سن رہا ہوں میں
تو یاد رکھے یا نہ رکھے، اے مرے نصیب
تیری محبت آج بھی جیتا رہا ہوں میں