رات کی باتیں سورج نہیں دیکھتا شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

رات کی باتیں سورج نہیں دیکھتا شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 6:47 · 1 plays · 2 likes

Lyrics

رات کی باتیں
سورج نہیں دیکھتا،

مگر میں نے دیکھی ہیں
وہ باتیں،

جو اندھیرے کے پردے میں
خاموشی سے ڈھلتی ہیں،

اور کسی ان کہے لمس کی طرح
دل میں اترتی ہیں۔

رات کی باتیں
سورج نہیں دیکھتا،

وہ باتیں
جو چاندنی میں بھیگ کر،

پلکوں پر ٹھہری نمی بنیں،
پھر آنکھوں سے اتر گئیں،

صبح کی اذان سے پہلے
دل کی تہہ میں چھپ گئیں۔

رات کی باتیں
سورج نہیں دیکھتا،

وہ باتیں
جو لبوں تک آ کر رک گئیں،

سنسناتی سانسوں میں
چپ چاپ لپٹی رہیں،

کسی چہرے کی لکیروں میں،
کسی ہاتھ کی حنا میں،

اپنا ایک نشان
چھوڑ گئیں۔

رات کی باتیں
سورج نہیں دیکھتا،

وہ باتیں
جو آنکھوں نے کہہ دی تھیں،

مگر ہونٹ
کہہ نہ سکے،

جو ایک لمحے میں
پوری عمر بن گئیں،

اور صبح ہوتے ہی
سب سے چھپ گئیں۔

رات کی باتیں
سورج نہیں دیکھتا،

مگر میں نے دیکھے ہیں
وہ رنگ،

جو اندھیرے نے
اپنے دامن میں رکھے تھے،

وہ سائے،
وہ خاموش پہرے،

وہ راستے
جن پر ہم دونوں چلے،

مگر کسی کو
خبر نہ ہوئی۔

رات کی باتیں
سورج نہیں دیکھتا،

وہ ایک راز ہیں،
جو روشنی سے ڈرتے ہیں،

وہ لفظ ہیں
جو دن میں خاموش رہتے ہیں،

وہ لمس ہیں
جو یاد بن کر رہ جاتے ہیں،

وہ لمحے ہیں
جو گزر کر بھی،

دل سے
نہیں گزرتے۔

رات کی باتیں
سورج نہیں دیکھتا،

تو پھر کون جانتا ہے
ان کا حساب؟

کون گنتا ہے
وہ آنسو،

جو آنکھوں سے پہلے
دل میں گرے تھے؟

کون سنتا ہے
وہ آواز،

جو خاموش رہ کر بھی
ساری رات بولتی رہی؟

رات کی باتیں
سورج نہیں دیکھتا،

اور شاید
اسی لیے،

ہم نے اپنے سب سے سچے لفظ
رات کے حوالے کیے تھے،

اپنی چھپی ہوئی خواہشیں
رات کے نام کی تھیں،

اور جو بات
دن کی روشنی میں کہی نہ جا سکی،

وہ آج بھی
وہیں کہیں ہے۔

رات کی باتیں
سورج نہیں دیکھتا،

وہ دل کے اندر رہتی ہیں،

وہ یاد بن کر
سانس لیتی ہیں،

اور جب دنیا
سب کچھ بھول جاتی ہے،

تب بھی
وہ ایک بات باقی رہتی ہے—

رات کی باتیں
سورج نہیں دیکھتا۔

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI