لوٹے میرا انتظار.. شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

لوٹے میرا انتظار.. شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 4:26 · 0 plays

Lyrics

ایک وعدہ تھا، تری آنکھوں میں ٹھہرا ہوا
چاندنی رات کے ہاتھوں سے سنہرا ہوا
تو نے ہنس کر کہا تھا: ’’ہمیشہ رہوں‘‘
دل نے اس ایک جملے کو گھر کر لیا

تیری آواز میں بارش کی خوشبو بسی
میرے صحرا کی مٹی بھی گانے لگی
تو جو پل بھر کو نزدیک آ کر رکا
میری تنہائی خوشیوں سے بھرنے لگی

تیری زلفوں میں شاموں کا رستہ ملا
تیری پلکوں پہ خوابوں کا دریا کھلا
میں نے چاہا کہ لفظوں میں تجھ کو لکھوں
ہر سخن تیرے ہونٹوں پہ آ کر رکا

تو نے وعدہ کیا تھا کہ لوٹے گا تو
میرے موسم میں پھر سے بہاریں ہوں گی
میں نے دیوار پر آج تک لکھ رکھا
وہ گھڑی، جس میں تیری نگاہیں ہوں گی

اب بھی کھڑکی پہ آ کر صبا پوچھتی
کیا وہ آواز پھر سے سنائی دے گی؟
میں اسے مسکرا کر یہی کہتا ہوں
دل کی دہلیز پر روشنی رہ گئی

تیری یادوں کے جگنو مرے ساتھ ہیں
رات کے دشت میں جیسے بارات ہیں
میں جہاں بھی گیا، تو مرے پاس تھا
میرے قدموں کے نیچے تری بات ہے

تو اگر خواب ہے، خواب رہنے بھی دے
میری آنکھوں میں کچھ دیر بہنے بھی دے
صبح آئے تو دنیا کو دیکھیں گے ہم
آج پلکوں پہ تیرا ٹھہرنے بھی دے

میری دھڑکن نے چپکے سے یہ گیت چنا
تیری قربت کا ہر رنگ دل میں بُنا
لوگ کہتے ہیں وقت سبھی بھولتا
وقت نے تیرا چہرہ مگر اور بُنا

ایک وعدہ تھا، ٹوٹا نہیں آج تک
دل نے ہارا ہے، روٹھا نہیں آج تک
تو نہیں ہے مگر تیری خوشبو کے ساتھ
میرا کمرہ بھی سونا نہیں آج تک

کبھی ملنا تو خاموش لمحوں کے پار
جہاں لفظوں سے روشن ہو جائے پیار
میں وہیں تیرے وعدے کا دیپک لیے
منتظر ہوں، کہ لوٹے مرا انتظار

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI