
آخری ۔۔ گفتگو ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
---
**آخری گفتگو**
میں نہ کہوں گا تم سے پھر اب کوئی بات
خامشی ہی بن گئی ہے دل کی نجات
جس رستے پہ تم نے وفا کو بھلا دیا
اُس رستے پہ اب نہ ہوگی کوئی ملاقات
آہ…
اب نہ ہوگی کوئی ملاقات
دل کی دنیا میں بچی ہے صرف ایک ہی رات
میں نے چاہا تھا کہ لفظوں میں بہاریں رہیں
میں نے چاہا تھا کہ آنکھوں میں قراریں رہیں
پر تمہارے ہی جوابوں نے یہ سکھلا دیا
کہ دلوں میں اگر دغا ہو تو پکاریں رہیں
ہائے پکاریں
ہاں پکاریں
پر نہ رہتی ہیں وہاں پھر بہاریں
اب نہ تم یاد آؤ، نہ تمہارا خیال آئے
میرے زخموں پہ کسی اور کا سوال آئے
میں نے دل کو یہ کہہ دیا ہے آخر کار
اس کے بعد تم سے کوئی اور ملال آئے
آہ…
کوئی ملال آئے
دل کے موسم میں نہ پھر کوئی وبال آئے
تم نے جب میری وفا کا ہی مذاق اُڑایا
میرے خاموش لبوں نے بھی جواب نہ پایا
اب جو پوچھو گے کہ کیوں دور جا رہا ہوں
میں کہوں گا: میں نے خود کو ہی بچایا
ہائے بچایا
دل کو آخر میں نے خود سے ہی بچایا
میں نہیں چاہتا کہ پھر تم سے ملاقات ہو
نہ شکایت ہو، نہ لفظوں کی کوئی بات ہو
جو بھی رشتہ تھا وہ اب خاک میں شامل سمجھو
اب نہ پہلی سی محبت، نہ وہی ساتھ ہو
آہ…
وہی ساتھ ہو
اب نہ دل میں تمہارا ہی کوئی نام و نشان ہو
میں نے سوچا تھا کہ شاید تم بدل جاؤ گے
اپنی آنکھوں میں نئی روشنی لے آؤ گے
پر تمہارے ہی رویّے نے یہ ثابت کر دیا
کہ جو ٹوٹا ہے وہ رشتہ کبھی نہ جڑ پاؤ گے
ہائے جڑ پاؤ گے
دل کے بندھن کو دوبارہ نہ بنا پاؤ گے
اب میں خاموشی کو آواز بنا لوں گا
اپنی تنہائی کو پھر ساز بنا لوں گا
تم سے باتیں نہ کروں گا، یہ عہد ہے میرا
اپنے دل کو میں خود ہی ہمراز بنا لوں گا
آہ…
ہمراز بنا لوں گا
اپنی تقدیر کو میں ساز بنا لوں گا
اگر تم لوٹ بھی آؤ تو میں دیکھوں گا نہیں
دل کے دروازے کو پھر سے میں کھولوں گا نہیں
جو سیاہی تم نے لکھی تھی مرے حصے میں
اُس کتابِ دل کو اب میں تولوں گا نہیں
ہائے تولوں گا نہیں
اب کسی درد کو سینے میں رولوں گا نہیں
میں نے اس عشق کے بازار کو چھوڑ دیا
اپنے احساس کے آزار کو چھوڑ دیا
جو بھی تھا تم سے، وہ اب خواب سمجھ لو
میں نے سب یاد کے آزار کو چھوڑ دیا
آہ…
چھوڑ دیا
دل نے سب نقشِ وفا ایک دم مٹا دیا
اب نہ میں تم سے کروں گا کبھی بات دوبارہ
نہ وہ پہلی سی رہے گی کوئی رات دوبارہ
میری خاموشی ہی میرا جواب ہے اب
ختم ہو گئی ہے وہ دل کی دراز دوبارہ
ہائے دراز
ہاں دراز
اب نہ کھلیں گے دلِ زار کے راز دوبارہ
میں نے چپ رہ کے بھی سب کچھ بیان کر دیا
اپنے خاموش لبوں کو بھی عیان کر دیا
جو سمجھا میرے سکوت کی حقیقت کو
اس نے جدائی کو خود ایک مقام کر دیا
آہ…
ایک مقام کر دیا
دل نے آخر تجھے دل سے ہی تمام کر دیا
---