
اخری ۔۔۔ خوشبو ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
میں اس محبت کی آخری خوشبو ہوں
میں اس محبت کی آخری خوشبو ہوں
میں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی آرزو ہوں
زمانہ بدل گیا، لوگ بھی بدل گئے
مگر میں آج بھی صرف تیرا ہی ہوں
راتوں کی خاموشی میرا گھر بن گئی
یادوں کی بارش میری نظر بن گئی
ہر دھڑکن نے تیرا ہی نام لیا
ہر سانس میری تیری وفا بن گئی
میں اس محبت کی آخری خوشبو ہوں
وقت کے صحرا میں بہتا آنسو ہوں
سب نے بھلا دی وہ محبت کی کہانی
میں اب بھی اُس عشق کی روشنی ہوں
خزاں نے میرے سارے رنگ چرا لیے
وقت نے میرے سب خواب چرا لیے
پھر بھی میرے دل میں ایک چراغ ہے
جو تیرے وعدوں سے آج بھی جلتا ہے
چاند بھی مجھ سے تیرا پتہ پوچھے
ہوا بھی تیرا نام لے کر گزرے
ہر راستہ تیری یاد سے روشن ہے
ہر لمحہ تیرا انتظار کرے
میں اس محبت کی آخری خوشبو ہوں
میں وفا کے سفر کا آخری جنوں ہوں
اگر قسمت ہمیں نہ ملا سکی
پھر بھی میں تیرا ہی سکوں ہوں
میری خاموشی بھی تجھے پکارتی رہی
میری تنہائی تجھے سنوارتی رہی
میں ٹوٹا ضرور ہوں وقت کے ہاتھوں
مگر میری محبت کبھی نہ ہارتی رہی
اگر میرے پھول مرجھا بھی جائیں
اگر میری سانسیں تھم بھی جائیں
میری خوشبو ہوا میں زندہ رہے گی
میری وفا زمانے کو یاد رہے گی
میں اس محبت کی آخری خوشبو ہوں
میں دل کی آخری دھڑکن کا جنوں ہوں
جسم مٹ جائے تو مٹ جانے دو
محبت رہے... یہی میری پہچان ہو