ایک لمحہ رک جانا ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

ایک لمحہ رک جانا ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 4:51 · 5 plays

Lyrics

ایک لمحہ رک جانا

تمہارے بعد میرے لفظوں نے کسی کا نام قبول نہیں کیا،
ہونٹ خاموش رہے، مگر اندر کچھ مسلسل تمہیں ڈھونڈتا رہا۔

میں نے خود کو مصروف رکھا، لیکن ایک خالی جگہ ہر روز میرے ساتھ چلتی رہی،
نہ وہ درد ہے جسے بیان کر سکوں، نہ وہ سکون جو کہیں مل جائے۔

بس اتنا جانتا ہوں کہ تم نہیں ہو، اور یہی بات میری پوری دنیا بدل دیتی ہے،
کتنی آوازیں آئیں اور گزر گئیں، مگر کوئی بھی میرے اندر نہ ٹھہری۔

میں نے اپنے دن نئے بنانے چاہے، مگر ہر آغاز ادھورا رہ گیا،
لوگ مجھ سے باتیں کرتے رہے، اور میں صرف مسکراتا رہا۔

کسی نے نہ پوچھا کہ میرے اندر کیا ٹوٹا ہے،
اور میں نے بھی اپنے حصے کی خاموشی کسی میں تقسیم نہیں کی۔

میں نے کئی بار سوچا کہ شاید وقت سب بدل دے گا،
مگر وقت نے صرف چلنا سیکھا، میں نے نہیں۔

دن گزرتے رہے،
اور میری زندگی خاموش عادت بنتی گئی۔

اب تمہیں پانے کی خواہش بھی باقی نہیں،
مگر تمہارا نہ ہونا آج بھی ویسا ہی محسوس ہوتا ہے۔

میں نے اپنی ہر ادھوری بات
اپنے ہی دل میں دفن کر دی۔

اب نہ کوئی گلہ ہے، نہ کسی فیصلے سے انکار،
بس ایک حقیقت ہے جس کے ساتھ جینا میں نے آہستہ آہستہ سیکھ لیا۔

اگر کبھی ہوا میرا ذکر،
تو بس ایک لمحہ رک جانا۔

کچھ مت کہنا،
بس خاموشی سے گزر جانا۔

شاید اسی ایک لمحے میں،
تم سمجھ سکو...

کہ کوئی تھا،
جس نے تمہیں دل سے چاہا تھا۔

اور اگر میری کہانی کبھی تمہارے دل تک نہ پہنچے،
تب بھی اسے ادھورا مت کہنا۔

کیونکہ بعض محبتیں
ملنے کے لیے نہیں ہوتیں...

وہ صرف انسان کو
ہمیشہ کے لیے بدل دینے آتی ہیں۔

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI