
دیکھو ذرا ۔۔۔ عبدالمجيد خاصخيلي...
Lyrics
دیکھو ذرا
دیکھو ذرا، یہ آسماں بھی رو رہا ہے آج
رات نے غم کی چادر اوڑھ لی ہے خاموشی کے ساتھ
چاند کی آنکھوں میں کتنے سوال چھپے ہوئے
اور ستارے ڈھونڈتے ہیں تیرا نام ہر ایک رات
تم اگر اک بار نظریں آسمان پر اٹھاؤ
میری ہر دھڑکن تمہیں آواز دے گی پیار سے
خشک دل کی وادیوں میں تم برستی بارشیں
زندگی پھر مسکرائے گی تمہارے انتظار سے
برق بھی تیری گلی میں نام تیرا لے گئی
بادلوں نے بھی تری خوشبو کو اپنا کہہ دیا
رات نے چپکے سے میرے دل کو اتنا کہہ دیا
عشق سچا ہو تو فاصلہ بھی راستہ بن جاتا
لوٹ آؤ... اے مری جانِ وفا
دل ابھی تک تیرا گھر ہے
میرے خوابوں کی ہر اک روشنی
صرف تیرے نام پر ہے
میں تمہاری راہ میں ہر شام جلتا ہی رہا
چاند بن کر، یا دعا بن کر، صدا بن کر رہا
کتنی راتیں گزر گئیں بس سوچتے سوچتے
کاش تم کہہ دو کبھی: "ہاں، میں ابھی بھی تمہاری ہوں"
چل پڑیں پھر ساتھ ہم، تاروں کے سائے میں کہیں
ہاتھ میں ہو ہاتھ تیرا، ختم ہوں سب دوریاں
پھر نہ قسمت بیچ میں آئے، نہ کوئی خامشی
صرف محبت، صرف ہم، اور یہ خوبصورت کہانیاں
ڈر یہی ہے عشق قصہ بن نہ جائے ایک دن
خواب سارے ریت کی دیوار جیسے ڈھ نہ جائیں
آؤ پھر سے ایک نیا وعدہ کریں ہم دونوں
عمر بھر یہ دل کسی اور کے لیے دھڑک نہ پائیں۔