آستانہ ۔۔ حس ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔ cover art

آستانہ ۔۔ حس ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 7:04 · 7 plays

Lyrics

آستانِ حُسن

سوزِ دروں لیے نکلا، کوچۂ یار کی سمت روان
بارِ تمنا سینے میں، لب پر خاموشی کا بیان

رختِ سفر باندھا آخر، شہرِ صنم کی خاک ملی
گردِ رہِ محبوب نے آ کر، میری قسمت سے بات کی

شوقِ نظر نے راہ دکھائی، قدم قدم پر کیف ملا
دیرینہ پیاس لیے جو آیا، اُس کو جامِ دیدار ملا

جلوۂ رخ جب سامنے آیا، حُسن بھی حیران ٹھہر گیا
پردۂ شرم ہٹا تو جیسے، ماہِ جمال بھی ماند پڑا

صوتِ نگار کی ایک لَے نے، تارِ وجود جگا دیا
ایک صدا نے گوشِ تمنّا کو، عمر کا حاصل سنا دیا

تشنۂ دیدار روح تھی میری، آبِ نظر سے سیر ہوئی
اک لمحے کی قربت پا کر، صدیوں کی حسرت مٹ گئی

مزارِ حسن پہ سر رکھا، خاک نے مجھ کو راز کہا
جس کو ڈھونڈا دشتِ جہاں میں، وہ میرے روبرو آ بیٹھا

شبِ گزشتہ خواب نہ آیا، بستر پر بےخواب رہا
یاد کی شمع جلی تو پھر، رات بھر دل بیدار رہا

سوزِ نہاں نے ساز چھیڑا، خامشی نے نغمہ چھیڑا
تارِ نفس پر نام ترا تھا، ہر آہنگ نے تجھ کو پکارا

صبح ہوئی تو راز کھلا، کیوں رات مجھے اتنی پیاری تھی
تیرے خیال کی خوشبو سے، ہر ساعت گلزارِ جاری تھی

اب پردۂ انکار اٹھا دوں، حرفِ تمنا صاف کہوں
جو کچھ سینے میں برسوں رکھا، آج سرِ محفل عام کہوں

میں نے چاہا تجھ کو ایسے، جیسے صحرا ابر کو چاہے
جیسے بنجر خاک اچانک، پہلی بارش کا لمس پائے

نہ تاج طلب، نہ تخت طلب، نہ زر کی کوئی آرزو ہے
ایک تبسم تیرا کافی، یہی فقیر کی آبرو ہے

تو اگر ایک بار بلائے، عمر کی دوری ختم کروں
اپنی ساری بزم چھوڑ کر، تیری چوکھٹ پر شب بسر کروں

اہلِ جہاں جو پوچھیں مجھ سے، کس کی خاطر یہ بےقراری
میں کہہ دوں گا، وہ ایک ہی چہرہ، جس پر قربان ہوئی دنیا ساری

مہرِ وفا جب دل پہ لگی، عہدِ نفس بھی ٹوٹ گیا
نام ترا جب روح میں اترا، باقی ہر اک نقش مٹ گیا

رازِ محبت اب کیا چھپنا، چہرہ خود اقرار کرے
جس سمت تری یاد چلے، دل اسی سمت سفر کرے

خاکِ درِ جاناں میری، میری سب سے اونچی منزل
اس در سے جو نسبت مل جائے، وہ سلطانی کیا، وہ حاصل

جامِ وصال اگر نہ ملے تو، سوزِ فراق قبول مجھے
تیری گلی کی ایک صدا بھی، عمرِ گریزاں سے اصول مجھے

آخرِ شب جب وجد اٹھے گا، سازِ محبت گونج اٹھے
میری فریاد ترنم بن کر، بزمِ جہاں میں آج اٹھے

میں اقرارِ محبت کرتا، بےخوف، عیاں، بےپردہ آج
تو میری چاہت، تو میری منزل، تو ہی مرا آخرین سراج

جس دن سانس کی ڈور ٹوٹے، آخری خواہش اتنی ہو
لب پر تیرا نام رہے بس، آنکھوں میں تیری صورت ہو

سوزِ دروں لیے نکلا تھا، لوٹا تو سرشار ملا
جس کو سمجھا تھا دورِ مقدر، وہی میرا اقرار ملا

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI