
تم ۔۔۔ مسکرا۔۔ دو
Lyrics
تم مسکرا دو
ہر راہ میں جب تم قدم رکھتی ہو،
پھول بھی خوشبو میں گیت سناتے ہیں۔
ہوا تمہارا نام دھیرے سے کہتی ہے،
اور موسم تم پر مسکراتے ہیں۔
تتلیاں تمہارے گرد رقص کریں،
بادل بھی سایہ بن جائیں۔
پہاڑ تمہاری چاپ پہ جھوم اٹھیں،
دریا بھی تمہیں دیکھ گنگنائیں۔
تم آئی تو رنگ بدل گئی دنیا،
ویران دلوں میں بہار اتر آئی۔
جو بھی ایک بار تمہیں دیکھے،
اس کی آنکھوں میں روشنی سمٹ آئی۔
تمہاری خاموشی بھی نغمہ لگتی ہے،
تمہاری ہنسی دل کی صدا لگتی ہے۔
تم سامنے ہو تو ہر لمحہ حسین،
تم بن سب دنیا بے وفا لگتی ہے۔
میں بس اتنا چاہتا ہوں،
کبھی میرے قریب بھی آؤ۔
اپنی آنکھوں کی زبان سے،
دل کی کوئی بات سناؤ۔
شاید تمہاری ایک مسکراہٹ،
میری ساری دنیا بدل دے۔
اور تمہارا ایک پیارا سا لمس،
میرے ہر موسم کو غزل کر دے۔
آج بھی دل یہی کہتا ہے،
تم جہاں ہو وہیں بہار رہتی ہے۔
اور تم مسکرا دو ایک لمحہ،
تو زندگی بھی گیت بن جاتی ہے۔