یی کیسے محبت ہے ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

یی کیسے محبت ہے ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 7:59 · 5 plays

Lyrics

یہ کیسی محبت ہے، مل نہیں سکتے
یہ کیسی چاہت ہے، آپ کے آواز سنو تو دور سے سنو
یہ کیسا عذاب ہے دل کو، یہ کیسی اذیت ہے
کہ سانس تو چلتی ہے، پر جینے کی صورت نہیں ملتی

یہ کیسی خواہش ہے، جو پتھر کی طرح
سینے میں دھڑکتی ہے، مگر ڈھلتی نہیں
یہ کیسی پیاس ہے، جو سمندر کی طرح
آنکھوں میں ٹھہری ہے، مگر چھلکتی نہیں

یہ کیسی دوری ہے، کہ ہر شام تیرے شہر کی
ہوا میرے گھر آتی ہے، مگر تُو نہیں آتا
یہ کیسی قربت ہے، کہ تیری یاد کا جگنو
میری راتوں میں جلتا ہے، مگر تُو نہیں آتا

یہ کیسا رشتہ ہے، جو لفظوں سے نہیں بندھا
یہ کیسی الفت ہے، جو آنکھوں سے نہیں برسی
یہ کیسا بندھن ہے، جو ہاتھوں سے نہیں بندھا
یہ کیسی حسرت ہے، جو ہونٹوں سے نہیں برسی

یہ کیسی محبت ہے، مل نہیں سکتے
یہ کیسی چاہت ہے، آپ کے آواز سنو تو دور سے سنو
یہ کیسا عذاب ہے دل کو، یہ کیسی اذیت ہے
کہ سانس تو چلتی ہے، پر جینے کی صورت نہیں ملتی

میں نے آسمانوں سے پوچھا، یہ کیسا فراق ہے
جس میں وصل کی خوشبو ہے، مگر رنگ نہیں
میں نے ستاروں سے پوچھا، یہ کیسا ملال ہے
جس میں عشق کی گہرائی ہے، مگر سنگ نہیں

یہ کیسی راہ ہے، جس پر قدم تو چلتے ہیں
مگر منزل کا کوئی نام و نشان نہیں
یہ کیسی آگ ہے، جس میں جل تو رہے ہیں ہم
مگر راکھ کا کوئی ڈھیر، کوئی دھواں نہیں

یہ کیسی محبت ہے، مل نہیں سکتے
یہ کیسی چاہت ہے، آپ کے آواز سنو تو دور سے سنو
یہ کیسا عذاب ہے دل کو، یہ کیسی اذیت ہے
کہ سانس تو چلتی ہے، پر جینے کی صورت نہیں ملتی

کبھی سوچتا ہوں، یہ دل ہی کیوں دھڑکتا ہے
جب اس دھڑکن کا کوئی مقصد نہیں
کبھی پوچھتا ہوں، یہ آنکھیں کیوں بھیگتی ہیں
جب ان آنسوؤں کا کوئی مرہم نہیں

یہ کیسی خاموشی ہے، جو شور مچاتی ہے
یہ کیسی تنہائی ہے، جو محفل سجاتی ہے
یہ کیسی بے چینی ہے، جو سکون دیتی ہے
یہ کیسی بے رنگی ہے، جو پھول کھلاتی ہے

یہ کیسی محبت ہے، مل نہیں سکتے
یہ کیسی چاہت ہے، آپ کے آواز سنو تو دور سے سنو
یہ کیسا عذاب ہے دل کو، یہ کیسی اذیت ہے
کہ سانس تو چلتی ہے، پر جینے کی صورت نہیں ملتی

تیری یادوں کے جزیرے میں، میں صدیوں سے اکیلا ہوں
نہ کوئی ساحل، نہ کوئی کشتی، نہ کوئی ناخدا
تیری خوشبو کے صحرا میں، میں پل پل بھٹکتا ہوں
نہ کوئی سایہ، نہ کوئی بستی، نہ کوئی رہنما

یہ کیسی محبت ہے، مل نہیں سکتے
یہ کیسی چاہت ہے، آپ کے آواز سنو تو دور سے سنو
یہ کیسا عذاب ہے دل کو، یہ کیسی اذیت ہے
کہ سانس تو چلتی ہے، پر جینے کی صورت نہیں ملتی

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI