کیوں ناراض ہو ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔ cover art

کیوں ناراض ہو ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Rock song · 5:59 · 9 plays

Lyrics

کیوں ناراض ہو

آج پھر میز پر رکھی
وہ تصویر اٹھا لی میں نے
اور اپنے آپ سے پوچھا
آخر تم مجھ سے ناراض کیوں ہو

کیا میری کسی بات نے
تمہارے اندر کانٹا چبھویا تھا
یا میری کوئی حرکت
تمہیں مجھ سے دور کر گئی

بتا دیتے تو شاید
میں اپنی لغزش سنبھال لیتا
تم یوں اچانک نہ بدلتے
میں خود کو قصوروار سمجھ لیتا

اب تمہاری طرف سے
کوئی پیغام نہیں آتا
موبائل کی روشن اسکرین بھی
اب بے معنی لگتی ہے

میں نے کتنی مرتبہ چاہا
تمہیں پھر سے پکاروں
مگر انگلی رک جاتی ہے
کہ شاید تمہیں ناگوار گزرے

تمہیں معلوم ہے نا
میں تمہیں کس قدر چاہتا ہوں
پھر یہ کیسا امتحان ہے
کہ تمہاری کمی ہر پل مجھے محسوس ہوتی ہے

پھر یہ کیسی بے بسی ہے
کہ تیرا دیدار بھی ممکن نہیں

ہر رات ایک خدشہ
میرے اندر جاگتا ہے
کہ کہیں تم ہمیشہ کے لیے
میرے حصے سے نکل نہ جاؤ

میں تمہارا چہرہ
آنکھوں میں بسا نہیں سکتا
مگر اُس تصویر کو
اپنے سامنے رکھ لیتا ہوں

پھر تمہاری مسکراہٹ
کچھ دیر مجھے بہلاتی ہے
جیسے تھکے ہوئے مسافر کو
کسی جانی پہچانی خوشبو سے سکون مل جائے

میں تصویر سے کہتا ہوں
تمہارا ساتھی اتنا سخت کیوں ہے
اس نے مجھ سے میری دنیا کیوں چھین لی
جبکہ میں نے صرف تمہیں چاہا تھا

تصویر کچھ کہتی نہیں
بس وہی ہلکی سی مسکان رہتی ہے
اور میری بے قراری
آہستہ آہستہ تھم جاتی ہے

شاید تم کبھی نہ سمجھو
کہ تم سے دوری کیا کرتی ہے
مگر میری ہر رات
تمہارا نام لیے بغیر بھی تمہیں سوچتی ہے

اگر میری کوئی خطا تھی
تو اسے سزا نہ بنانا
مجھے اتنا بتا دینا
کہ میں نے تمہیں کہاں دکھ دیا

اگر پلٹنا تمہارے بس میں نہیں
تو میری ایک بات یاد رکھنا

اپنی وہ مسکراہٹ سلامت رکھنا
جس سے میرا یہ اکیلا کمرہ روشن رہتا ہے

تم جہاں بھی رہو
اپنی خوشی کو سنبھالے رکھنا
میں اپنی طرف سے
تمہاری راہ نہیں روکوں گا

بس اتنا حق دے دینا
کہ جب کبھی تنہا بیٹھو
ایک لمحے کو سوچ لینا
کوئی تھا جو تمہیں بے حد چاہتا تھا

اور اگر کبھی
میری بات یاد آ جائے
تو آنکھیں نہ جھکانا
بس ہلکا سا مسکرا دینا

شاید وہی مسکراہٹ
میرے حصے کا آخری تحفہ ہو
جسے میں عمر بھر
اپنے پاس رکھ سکوں۔

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI