پھر بھے انتظار ہیں ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

پھر بھے انتظار ہیں ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Rock song · 7:59 · 8 plays · 1 likes

Lyrics

پھر بھی انتظار ہے

کیا حال ہے میرے دل کا
اب بھی اُس کی ملاقات کا طلبگار ہے
وہ ملنا نہیں چاہتی
پھر بھی دل اُس کا وفادار ہے

میری عمر اُسی راہ کو دیکھے
جہاں سے اُس کے قدم گزرتے تھے
وہ دور ہوئی، سب دور ہوا
پھر بھی دل اُس کو ڈھونڈتا ہے

یہ کیسا عشق، یہ کیسا شوق
جو دل میں آ کر ٹھہر گیا
خاموش لب، بےچین نظر
ہر سانس میں وہ اتر گیا

میں دل سے کہتا ہوں، بھول اُسے
دل کہتا ہے، یہ ہو نہیں سکتا
وہ نام جو دل میں لکھا گیا
وہ نام کبھی مٹ نہیں سکتا

میں اُس کی ملاقات کا طلبگار ہوں
دور ہے وہ، پھر بھی اُس کا وفادار ہوں
وہ چاہے نہ چاہے، یہ دل مانتا نہیں
میں آج بھی اُس کے عشق میں گرفتار ہوں

میں اُس کی ملاقات کا طلبگار ہوں
ٹوٹ کے بھی اُس کا وفادار ہوں
دنیا کہے چھوڑ دے، دل کہے نہیں
میں آج بھی اُس کا ہی طلبگار ہوں

ہر راستہ اُس کی یاد لیے
ہر موڑ پہ اُس کا نشان ملا
میں کل کی آس لیے بیٹھا رہا
مگر آج بھی کچھ نہ ملا

لوگ اپنے محبوب سے ملتے ہیں
اور میں تنہا لوٹ آتا ہوں
سینے میں اُس کی یاد لیے
خاموشی سے گزر جاتا ہوں

مجھے کچھ اور نہیں چاہیے
بس ایک نظر اُس کی مل جائے
ایک لمحہ اُس کے سامنے
پھر عمر جہاں بھی لے جائے

میں اُس کی ملاقات کا طلبگار ہوں
دور ہے وہ، پھر بھی اُس کا وفادار ہوں
وہ چاہے نہ چاہے، یہ دل مانتا نہیں
میں آج بھی اُس کے عشق میں گرفتار ہوں

میں اُس کی ملاقات کا طلبگار ہوں
ٹوٹ کے بھی اُس کا وفادار ہوں
دنیا کہے چھوڑ دے، دل کہے نہیں
میں آج بھی اُس کا ہی طلبگار ہوں

وہ کیا جانے، میری خاموشی
کتنی گہری فریاد بنی
وہ کیا جانے، اُس کی دوری
میرے دل کی آواز بنی

اگر آنسو بول سکیں کبھی
تو اُس کو میرا حال سنائیں
اگر شوق کو آواز ملے
تو اُس کے در تک پہنچائیں

اگر محبت میرا جرم ہے
یہ جرم مجھے منظور ہے
اگر جدائی میرا نصیب
یہ درد بھی دل کو منظور ہے

میں اُس کی ملاقات کا طلبگار ہوں
دور ہے وہ، پھر بھی اُس کا وفادار ہوں
وہ چاہے نہ چاہے، یہ دل مانتا نہیں
میں آج بھی اُس کے عشق میں گرفتار ہوں

میں اُس کی ملاقات کا طلبگار ہوں
ٹوٹ کے بھی اُس کا وفادار ہوں
دنیا کہے چھوڑ دے، دل کہے نہیں
میں آج بھی اُس کا ہی طلبگار ہوں

میں اُس کی ملاقات کا طلبگار ہوں
میں اُس کی ملاقات کا طلبگار ہوں
وہ نہیں آتی... پھر بھی انتظار ہے
یہ دل آج بھی اُس کا وفادار ہے

وہ نہیں آتی
پھر بھی انتظار ہے
یہ دل آج بھی
صرف اُس کا وفادار ہے

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI