
ھجر۔۔ نہاں ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
هجر........ ھجر۔۔۔۔۔ نہاں
> تِری جدائی نے دل کو، ایک نیا آسمان دیا
> خامشیوں کے شہر میں، درد نے مجھ کو زبان دیا
>
> میں نے تری یاد کو، سینے کی سلطنت بنا رکھا تھا
> تُو نے جاتے جاتے مجھے، خود سے بھی بے نشان دیا
> تِری ہنسی وہ نور تھی، جو رات کو سحر کرتی رہی
> اب تِری خاموشی مری، ہر سانس کو زہر کرتی رہی
>
> میں نے تیری جستجو کو، زندگی کا قرار جانا تھا
> تُو نے فراق کی ایک نظر میں، سب کو اک افسانہ تھا
>
> دل کے صحیفے میں تیرا، نام ابھی تک روشن ہے
> مگر ہر روشن حرف کے نیچے، ایک گہرا سوزِ محن ہے
> میں نے تیری راہ میں، اپنے سب موسم لٹا دیے
> اور تُو نے ایک ہی لمحے میں، سب چراغ بجھا دیے
>
> اب جو تنہائی سے ملتا ہوں، تو خود سے بھی خائف ہوں
> جیسے اپنے ہی وجود میں، اپنے ہی غم کے عاکف ہوں
> تِرے بغیر یہ جاں، بے قرار و بے قرار رہی
> ہر خوشی کی دھوپ بھی، مجھ پہ بن کے غبار رہی
>
> میں نے چاہا تھا تجھے، دل کی آخری پناہ سمجھ کر
> تُو گیا تو رہ گئی، صرف ایک شکستہ راہ بن کر
>
> تِرے بغیر یہ دل، نیم شب کا اجڑا دیار ہے
> نہ کوئی خواب معتبر، نہ کوئی صبح کا اعتبار ہے
> تیری خوشبو کا حوالہ، اب بھی ہوا میں باقی ہے
> جیسے مٹی کے بدن پر، اک نمی سی ساکی ہے
>
> میں نے لفظوں سے بنائی، تیری یادوں کی کہکشاں
> پھر بھی ہر اک شعر میں، تیرا ہی درد تھا عیاں
>
> تیری آنکھوں کی گہرائی، اب بھی مجھ کو ڈھانپتی ہے
> اور تیری دوری ہر گھڑی، مجھ سے میرا نام مانگتی ہے
> میں نے جینے کی تمنا، تیری خاطر ترک کی
> اور تُو نے میری تقدیر پر، فراق کی مُہر رکھ دی
>
> اب یہ دل، آئینے کی طرح، ٹوٹ کر بھی صاف ہے
> مگر اس کے ہر کونے میں، تیرا ہی ایک اعتراف ہے
> تِرے بغیر یہ جاں، بے قرار و بے قرار رہی
> ہر خوشی کی دھوپ بھی، مجھ پہ بن کے غبار رہی
>
> میں نے چاہا تھا تجھے، دل کی آخری پناہ سمجھ کر
> تُو گیا تو رہ گئی، صرف ایک شکستہ راہ بن کر
>
> تِرے بغیر یہ دل، نیم شب کا اجڑا دیار ہے
> نہ کوئی خواب معتبر، نہ کوئی صبح کا اعتبار ہے
> اگر تُو لوٹ آئے، تو کیا میں وہی رہوں گا؟
> یا اپنی ہی یادوں کے نیچے، خاموشی سے سو رہوں گا؟
>
> میں نے تجھ کو کھو کر، اپنے آپ کو بھی کھو دیا
> اب جو بچا ہے اندر، وہ بھی تری یاد میں رو دیا
>
> تری جدائی کا یہ زخم، حرف حرف میں اتر گیا
> اور میرا سارا وجود، تیری کمی میں بکھر گیا
> تِرے بغیر یہ جاں، بے قرار و بے قرار رہی
> ہر خوشی کی دھوپ بھی، مجھ پہ بن کے غبار رہی
>
> میں نے چاہا تھا تجھے، دل کی آخری پناہ سمجھ کر
> تُو گیا تو رہ گئی، صرف ایک شکستہ راہ بن کر
>
> تِرے بغیر یہ دل، نیم شب کا اجڑا دیار ہے
> نہ کوئی خواب معتبر، نہ کوئی صبح کا اعتبار ہے