
کب ملے گی
Lyrics
رات کے سائے میں، دل نے پکارا
خاموشیوں میں بھی، تیرا ہی نظارہ
ہر پل یہی سوال، ہر سانس یہی درد
کب ملیں گے، کب ملیں گے، کہہ دے کوئی فرد
یادوں کی گلیوں میں، میں بھٹکتا رہا
تیرے بغیر خود سے، میں بچھڑتا رہا
دل کے دریچے پر، دستک دے ذرا
ایک بار آ کے تو، پھر نہ جانا
کب ملیں گے، کب ملیں گے
یہ دل تیرے نام پہ ہی جیتے
کب ملیں گے، کب ملیں گے
تجھ بن یہ راتیں بھی نہ بیتیں
کب ملیں گے، کب ملیں گے
میری دعاؤں کا جواب دے
کب ملیں گے، کب ملیں گے
آ کے میرے خوابوں کو ثواب دے
شہر کی رونق میں بھی تنہا ہوں میں
ہر چہرے میں بس تیرا چہرہ ہوں میں
جو لفظ تھے میرے، سب تیرے ہو گئے
جو راستے تھے، وہ بھی تیرے ہو گئے
اب تو صبر بھی مجھ سے سوال کرے
یہ فاصلہ آخر کب زوال کرے
آ جا کہ دل کو قرار ملے
تیرے آنے سے پھر بہار ملے
کب ملیں گے، کب ملیں گے
یہ دل تیرے نام پہ ہی جیتے
کب ملیں گے، کب ملیں گے
تجھ بن یہ راتیں بھی نہ بیتیں
کب ملیں گے، کب ملیں گے
میری دعاؤں کا جواب دے
کب ملیں گے، کب ملیں گے
آ کے میرے خوابوں کو ثواب دے