
رات ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔۔
Lyrics
رات کے سینے میں
رات نے جب بھی مجھے اپنے پاس بلایا
میں نے اپنے دل کے زخموں کو پھر سے جگایا
خاموش گلیوں میں قدم آہستہ چلتے رہے
اور میرے اندر کئی موسم بدلتے رہے
چاند بہت دور تھا، پھر بھی ساتھ لگتا تھا
اندھیرا بھی میرے جیسے کچھ ٹوٹا لگتا تھا
میں نے ہر سائے سے اپنا حال پوچھا
اور ہر خاموش دیوار نے جواب میں بس دیکھا
یہ رات صرف اندھیرا نہیں، ایک کہانی ہے
اس کے سینے میں بھی شاید کوئی پرانی ہے
کسی ٹوٹے ہوئے خواب کی نشانی ہے
کسی بچھڑے ہوئے دل کی زبانی ہے
میں بیٹھا رہا کھڑکی کے پاس دیر تک
چپ چاپ سنتا رہا ہوا کے شور کو
جیسے کوئی اندر ہی اندر رو رہا ہو
جیسے وقت بھی تھک کے سو رہا ہو
رات کہتی ہے، رک جا، سن ذرا
دل کے اندر جو چھپا ہے، وہ بول ذرا
میں نے کہا: میرے پاس کچھ بھی نہیں
بس ایک ادھورا سا درد ہے، اور کوئی نہیں
رات، رات، تو اتنی تنہا کیوں لگتی ہے؟
میرے دل کی ہر خوشی کیوں ادھوری لگتی ہے؟
رات، رات، تیرے سائے کیوں پاس آتے ہیں؟
جب بھی میں خاموش ہوں، خواب ٹوٹ جاتے ہیں
رات، رات، تو میرے دل کی گواہ ہے
میرے اندر جو بھی ہے، سب تیری پناہ ہے
رات، رات، تو ہی میری ہمراز ہے
پر یہ دل تیرے اندھیرے میں بھی بےآواز ہے
میں نے اپنے زخموں کو لفظوں میں باندھا
ہر درد کو ایک دھن میں آہستہ ساندھا
تاکہ کوئی ایک دن یہ سمجھ سکے
اک اکیلا دل کیسے اندر سے تھک سکے
رات کی چھت پر جب بارش سی اترتی ہے
میرے اندر بھی کوئی یاد سی بکھرتی ہے
میں گنتا ہوں سانسیں، میں گنتا ہوں درد
اور وقت کے ہاتھوں سے پھسلتا ہوا فرد
کبھی لگتا ہے یہ رات مجھے جانتی ہے
میرے سناٹوں کی زبان بھی پہچانتی ہے
کبھی اپنے سینے میں چھپا لیتی ہے
کبھی میرے آنسوؤں کو بہا لیتی ہے
یہ تاریکی مجھے ڈرانا نہیں چاہتی
بس میرے دل کا حال سنانا چاہتی
کہ ہر اندھیرا ہمیشہ برا نہیں ہوتا
کبھی ٹوٹے ہوئے دل کا سہارا بھی ہوتا
اگر رات نہ ہو، تو درد کہاں جائے؟
اگر خاموشی نہ ہو، تو دل کیسے گائے؟
میں نے اندھیروں سے ہی روشنی سیکھی
میں نے ٹوٹنے میں بھی جینے کی راہ دیکھی
یہ رات گزر جائے گی، مگر میں رہوں گا
اپنے زخموں کے ساتھ پھر بھی سنبھلوں گا
چاند بھی اُگے گا، ہوا بھی بدلے گی
اور شاید میرے اندر کی دنیا بھی سنورے گی
رات، رات، تو اتنی تنہا کیوں لگتی ہے؟
میرے دل کی ہر خوشی کیوں ادھوری لگتی ہے؟
رات، رات، تیرے سائے کیوں پاس آتے ہیں؟
جب بھی میں خاموش ہوں، خواب ٹوٹ جاتے ہیں
رات، رات، تو میرے دل کی گواہ ہے
میرے اندر جو بھی ہے، سب تیری پناہ ہے
رات، رات، تو ہی میری ہمراز ہے
پر یہ دل تیرے اندھیرے میں بھی بےآواز ہے
رات ڈھلے گی، مگر نقش رہ جائیں گے
میرے دل کے اندر کچھ سوال رہ جائیں گے
میں پھر بھی جاگوں گا، میں پھر بھی لکھوں گا
رات کے سینے میں اپنا دکھ رکھوں گا