اسکی ایک لمحہ ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔ cover art

اسکی ایک لمحہ ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 6:41 · 6 plays

Lyrics

: شاید یہ لمحہ اسی کے لیے تھا

صبح کی پہلی کرن جب گلشن میں اتری تھی
ہر شاخ نے خاموشی سے روشنی اوڑھ لی تھی

پھول ابھی پوری طرح جاگے بھی نہ تھے
کہ وہ بہار کی خوشبو بن کر سامنے آ گئی

اس کے چہرے کی چمک میں صبح کا رنگ گھل گیا
سورج بھی جیسے آہستہ آہستہ طلوع ہوا

اس کی آنکھوں میں کوئی خاموش دریا بہتا تھا
جس میں ہر نظر اپنا راستہ بھول جاتی تھی

اس کی پلکیں جھکیں تو یوں لگا
جیسے ہوا نے دعا کی صورت اختیار کر لی ہو

اس کی مسکراہٹ نے کلیوں کو ہنسنا سکھایا
اور شبنم نے اس کے قدموں کو آئینہ بنایا

میں دور کھڑا صرف اسے دیکھتا رہا
وقت میرے گرد چلتا رہا، مگر میں وہیں ٹھہر گیا

وہ پھولوں سے باتیں کرتی آگے بڑھتی رہی
اور میرا دل اس کے ہر قدم کے ساتھ چلتا گیا

دوپہر کی روشنی بھی اس کے حسن سے ہار گئی
ہوا نے اس کے گیسوؤں میں اپنا گھر بنا لیا

پھر شام نے آسمان پر سنہرا پردہ ڈال دیا
اور افق نے خاموشی سے اسے اپنے رنگ دے دیے

میں نے پھر اسے سمندر کے کنارے دیکھا
ریت پر اس کے قدموں نے خاموش غزل لکھی

لہریں آ کر اس کے قدم چھوتی رہیں
پھر ادب سے پلٹ کر سمندر میں اترتی رہیں

ہوا اس کے گیسوؤں میں کھوئی ہوئی لگتی تھی
جیسے برسوں سے اسی لمحے کی منتظر ہو

چاند نے آسمان سے جھک کر اسے دیکھا
اور اپنی چاندنی اس کے رخ پر بچھا دی

ستارے ایک ایک کر کے جاگتے گئے
جیسے سب اس کے دیدار کے لیے آئے ہوں

میں نے دل ہی دل میں خود سے پوچھا...

کیا یہ لمحہ صرف اسی کے لیے تخلیق ہوا ہے؟
یا یہ سمندر صدیوں سے اسی منظر کا انتظار کرتا رہا ہے؟

کیا چاند نے اپنا نور اسی کے چہرے میں چھپا دیا ہے؟
یا آسمان نے اپنی ساری خوبصورتی اسی کے نام کر دی ہے؟

میں جتنا اسے دیکھتا گیا
اتنا ہی اپنے آپ سے دور ہوتا گیا

میں نے پہلی بار جانا
کہ حسن صرف آنکھوں سے نہیں دیکھا جاتا،
وہ تو دل میں اتر کر انسان کی پوری دنیا بدل دیتا ہے۔

وہ خاموش تھی...
شاید اسے خبر بھی نہ تھی
کہ کوئی اجنبی اپنی پوری زندگی
اسی ایک شام کے نام کر چکا ہے۔

اگر وہ کبھی مڑ کر میری سمت دیکھ لے
تو شاید میری خاموشی بھی بول اٹھے

اگر وہ کبھی میرا نام نہ جانے
تب بھی مجھے کوئی شکوہ نہ ہوگا

کیونکہ کچھ چہرے قسمت میں نہیں لکھے جاتے،
وہ صرف دل کی عبادت بن کر رہ جاتے ہیں۔

اور اس رات
سمندر ویسا ہی تھا...
چاند ویسا ہی تھا...
ستارے بھی وہی تھے...

بدلا تو صرف ایک دل تھا،
جو اس کی ایک جھلک کے بعد
پہلے جیسا کبھی نہ رہا۔

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI