
نور سحر ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
---
## **نورِ سحر**
صبح کی دھند میں جاگتی سڑکیں
چائے کے کھوکھے، اخبارات، اور ہارن
بس اسٹاپ پر خاموش کھڑے چہرے
جیسے ہر ایک کے اندر ہو کوئی طوفان
گھر کی دہلیز پہ ماں کی نگاہیں
دروازے پہ لٹکی ہوئی ایک دعا
باپ کے ہاتھ میں پرانا سا بستہ
اور دل میں کسی کے لوٹ آنے کی آس
شہر کے اندر شہر بسا ہے
ہر گلی میں اک اور بچھڑنا
کوئی دفتر کو جاتا ہے روز
کوئی بس میں سنبھالتا ہے اپنا چلنا
ایک لڑکی کھڑکی کے پاس
چپکے چپکے سمت دیکھے
شاید آج بھی وہی آئے
جس کی یاد سے آنکھیں بھیگے
بس کی سیٹوں پہ دھول جمی ہے
مگر دلوں میں سفر تازہ
کسی کے ہاتھ میں ٹکٹ ہے
کسی کے دل میں پرانا سا وعدہ
نورِ سحر… نورِ سحر
اس ہجوم میں بھی تنہائی کا اثر
جانے والے بھی اپنے لگے
اور رہ جانے والوں کا اپنا سفر
ایک بوڑھی ماں دروازے پر
گھنٹوں سے آنکھ لگائے بیٹھی
ہر آہٹ پر چونک کے دیکھے
جیسے امید ابھی تک زندہ ہو، سچی
چائے کے کپ ٹھنڈے پڑ جائیں
مگر یادیں گرم رہیں
شام ڈھلے جب بس آ کر رُکے
تو بھی کچھ لوگ نہ لوٹ سکیں
گلی کے نکڑ پہ بچے کھیلیں
اور دور کہیں سے سیٹی آئے
شہر کے اندر رقص کرے
ایک فراق، ایک دعا، ایک سائے
نورِ سحر… نورِ سحر
اس ہجوم میں بھی تنہائی کا اثر
جانے والے بھی اپنے لگے
اور رہ جانے والوں کا اپنا سفر
رات کے آخری بس اسٹاپ پر
کچھ سایے اور کچھ آنکھیں رہیں
کسی کے دل میں وصل کی خواہش
کسی کے دل میں فقط یادیں رہیں
اسٹیشن کی پلیٹ فارم لائٹ میں
چہرے آتے ہیں، چہرے جاتے
زندگی خود ایک قافلہ ہے
جس میں رشتے بھی مسافر بن جاتے
اور محبت؟
وہ بھی کسی کھڑکی سے لگ کر
دور جاتی ہوئی بس کو دیکھتی ہے
خاموشی میں بھیگتی آنکھوں کے ساتھ
اپنے حصے کی دعا مانگتی ہے
نورِ سحر… نورِ سحر
اس ہجوم میں بھی تنہائی کا اثر
جانے والے بھی اپنے لگے
اور رہ جانے والوں کا اپنا سفر
کوئی شہر بدل کر بھی وہی رہتا ہے
کوئی پاس رہ کر بھی دور ہوتا ہے
اصل رستہ تو دل کے اندر ہے
جہاں ہر فراق بھی نور ہوتا ہے
جب آخری بس اندھیرے میں گم ہوئی
بس اسٹاپ پہ ایک خاموشی رہی
اور اس خاموشی کے سینے میں
ایک نئی صبح کی روشنی رہی
میں نے دیکھا کہ رخصت کے بعد بھی
رابطۂ دل کبھی ختم نہیں ہوتا
جو بچھڑتے ہیں وہی یاد بن کر
اس شہر کی دیواروں میں زندہ رہتے ہیں
نورِ سحر… نورِ سحر
اس ہجوم میں بھی تنہائی کا اثر…
-