
چپ رہو ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
چپ رہو
ایک بار پلٹ کے دیکھو،
میرے دل کی صدا سنو۔
ایک بار مجھے پکارو،
پھر چاہے ہمیشہ چپ رہو۔
تم ہی میری پہلی خواہش،
تم ہی میری آخری دعا۔
تم بِن سونی لگتی دنیا،
تم بِن ادھورا ہر سماں۔
میں نے چاہا ساتھ تمہارا،
ہر خوشی تم پر وار دی۔
اپنے سارے خواب سجا کر،
تمہارے قدموں میں ہار دی۔
تم ہنس دیتی، عید ہو جاتی،
تم روٹھتی، رات اُترتی۔
میری ہر دھڑکن کہتی رہتی،
تم بِن زندگی کیا ہوتی۔
ایک بار پلٹ کے دیکھو،
میرے دل کی صدا سنو۔
ایک بار مجھے پکارو،
پھر چاہے ہمیشہ چپ رہو۔
تمہاری بے رخی بھی چاہی،
اُس میں بھی اک پیار ملا۔
ہر آنسو کو سینے سے رکھا،
تمہارا ہی دیدار ملا۔
جلتے صحرا، ٹوٹے رستے،
ہر منظر میں تم ہی تھے۔
میں تنہا تھا، مگر میرے ساتھ،
بس تمہارے سائے تھے۔
سنا ہے اب کوئی اور ہے،
جو تمہارا ساتھی بن گیا۔
مگر میری سی چاہت اُس کو،
شاید رب نے دی ہی نہ۔
وہ ہنسائے گا، یہ ممکن ہے،
دل کی بات کہاں جانے گا۔
میری طرح ہر درد تمہارا،
اپنا سمجھ کہاں مانے گا۔
اگر کبھی تنہائی روئے،
میرا نام پکار لینا۔
اپنی بھیگی پلکوں سے،
میرا خواب سنوار لینا۔
میں بددعا کبھی نہ دوں گا،
خوش رہنا میری دعا۔
میری قسمت درد سہی،
تم رہنا ہمیشہ ہنستا۔
ایک بار پلٹ کے دیکھو،
میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں۔
وقت بدل گیا، لوگ بدل گئے،
میں آج بھی تمہارا ہوں۔
ایک بار پلٹ کے دیکھو،
بس اتنا احسان کرو۔
اگر محبت یاد نہ آئے،
میری وفا کا مان رکھو۔