مہلت ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔ cover art

مہلت ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 7:59 · 8 plays

Lyrics

ہائے رے۔۔۔ مہلت مانگ رہے ہیں
ہم نے تو دل کی بستی لٹا دی، وہ اب مہلت مانگ رہے ہیں
جن کے لیے عمر گزاری، وہی چند لمحے مانگ رہے ہیں
کیا عجیب دستورِ محبت ہے، زخم دے کر مرہم مانگ رہے ہیں

ہم آئے تھے تیری گلی میں، وفا کا چراغ لیے ہوئے
دل میں ہزاروں خواب نہیں، بس ایک یقین لیے ہوئے
تیری چوکھٹ پر بیٹھے رہے، موسم بدلتے دیکھے
اپنی خوشیاں چھوڑ کے ہم نے، تیرے غم اپنے دیکھے

ہم نے تجھ کو وقت دیا، اپنی ہر سانس سے بڑھ کر
تیری خاطر چلتے رہے، اپنے احساس سے بڑھ کر
تو نے خاموشی کو عادت بنایا، فاصلے بڑھتے گئے
ہم اندر سے ٹوٹتے رہے، اور دن گزرتے گئے

کتنی راتیں جاگے ہم، تیری ایک صدا کے لیے
کتنے آنسو چھپائے ہم، تیری ایک وفا کے لیے
دل نے ہر بار کہا، شاید اب سمجھ آئے گی
مگر ہر امید آخر، تنہائی میں رہ جائے گی

ہم نے دل کی سلطنت میں، تیرا نام لکھا تھا
اپنی قسمت کے ورق پر، تیرا مقام لکھا تھا
تو نے اس کتابِ وفا کو، کبھی کھول کر دیکھا نہیں
ہم نے جو درد سنبھالا تھا، تو نے محسوس کیا نہیں

اب جو لوٹ کے آئے ہو، مہلت کی بات کرتے ہو
جس دل کو چھوڑ گئے تھے، اسی دل کی بات کرتے ہو
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی، تیرے انتظار کے نام
اب زخمی دل کو، واپس بلاتے ہو

ہم نے مانا کہ محبت، ایک پاک امانت تھی
مگر تیری بے نیازی بھی، ایک خاموش قیامت تھی
ہم نے ہنستے ہوئے سہہ لی، ہر جدائی کی تپش
تو نے دیکھی نہ کبھی، اس دل کی خاموش تڑپ

دل نے سیکھا ہے اب، خاموش رہنے کا قرینہ
بس دل میں رہ گئی ہے، ایک داستان باقی
جس راہ پہ تیرے لیے، ہم نے قدم رکھے تھے
اسی راہ پہ آج ہم، تنہا چلنے نکلے ہیں

ہم نے آخر تجھے رخصت کیا، دل پہ پتھر رکھ کر
بس اپنی خاموشی میں، تیرا قصہ دفن رکھا
نہ لوٹیں گے اب اس در پر، جہاں دل ہارا تھا
اپنے زخموں کو چھپا کر، نیا سفر اختیار کیا

تم نے سمجھا تھا شاید، دل پھر وہیں ٹھہر جائے گا
وقت کی آندھی میں لیکن، سب نقش مٹ جائے گا
ہم نے بھی سیکھا آخر، خود کو سنبھالنے کا ہنر
مگر قدم بڑھ ہی گئے، اس درد کے دیار سے

جو وعدے تیرے ساتھ کیے، دل میں رکھے تھے
وقت کی گردش نے آخر، ان وعدوں کو آزمایا ہے
جن باتوں پہ یقین تھا، وہی باتیں بدل گئیں
جن خوابوں کو سنبھالا تھا، وہی یادیں رہ گئیں

اب بھی دل میں تیری باتوں کا اثر باقی ہے
مگر بدلتی ہوئی راہوں کا سفر باقی ہے
ہم نے جو چاہا تھا تجھ سے، وہ قصہ رہ گیا
وقت کے ہاتھوں میں بس، ایک نشان باقی ہے

ہم نے تو دل کی بستی، تیرے نام کر دی تھی
اپنی ہر خوشی بھی، تیرے نام کر دی تھی
اب جو تنہا کھڑے ہیں، تو حیرت کیسی
ہم نے محبت دی تھی، تجارت نہیں کی تھی

مہلت کو ہم نے، عمر بھر سمجھا تھا
تیری ایک نظر کو، اپنی منزل سمجھا تھا
مگر جب دل نے چاہا، تیرا ساتھ مل جائے
تو وقت کی راہوں میں، تو دور ہی نظر آیا

آج بھی دل میں کہیں، تیری یاد بسی ہے
مگر اس یاد کے ساتھ، ایک درد بھی رہ گیا
محبت اپنی جگہ ہے، مگر راستہ بدل گیا
جو کبھی اپنا لگتا تھا، وہ قصہ بدل گیا

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI