
فاصلے آئینہ بن گیا ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
فاصلے آئینہ بن گئے
کب ہوا یہ معجزہ، میں بھی نہیں جانتا
اک صدا آئی کہیں، اور میں بدلتا ہی گیا
ریت پر لکھی ہوئی خاموش تحریر کی طرح
تیرا ہونا میرے اندر یوں اترتا ہی گیا
میری پلکوں نے کبھی ایسا منظر نہ چنا
جس میں ہر رنگ ترا اپنا پتہ دیتا رہے
میں ہوا کا بھی نہیں، روشنی کا بھی نہیں
میں تو اُس لمحے کا ہوں، جو تجھے سوچا کرے
تو نے چھو کر بھی مجھے چھوا نہیں لیکن سنو
میرے لہجے کا ہر اک موڑ تیرا ہو گیا
وقت کی دیوار پر جو نام مٹتے ہی نہیں
ان میں اک نام تیرا، دوسرا میرا ہوا
تو اگر لفظ نہیں
پھر مری آواز ہے
تو اگر رنگ نہیں
پھر مری پرواز ہے
تو نہ قسمت، نہ دعا
تو مرا امکان ہے
جو کبھی ختم نہ ہو
بس وہی عنوان ہے
جتنی دوری بھی بڑھی، اتنا نمایاں تو ہوا
فاصلے آئینہ بن کر ترا چہرہ لکھ گئے
میں نے خاموش دریچوں سے تجھے دیکھا نہیں
پھر بھی ہر سمت ترے ہونے کے نقش ابھر گئے
راہ چلتے ہوئے اک موڑ نے اتنا ہی کہا
بعض رشتے نہ بکھرتے ہیں، نہ گھر واپس گئے
ایک بےنام سی ساعت نے مجھے یہ سکھلایا
کچھ تعلق کبھی لفظوں کے سہارے نہ رہے
تو اگر سامنے آئے تو کہانی نہ کہوں
میری آنکھیں مرے حصے کی حکایت لکھ دیں
اور اگر پھر بھی زمانہ ہمیں ملنے نہ دے
اپنی یادوں کو کسی شام کی امانت رکھنا
میں نہ چاہوں گا کہ الزام کسی پر آئے
بس مرا نام کبھی دل سے شکایت نہ کرنا
جب کسی روز اچانک مری خوشبو نہ ملے
میری تحریر کے اوراق پلٹ کر دیکھنا
ہر سطر میں تجھے خاموش دعا مل جائے
ہر ورق پر مرا زندہ سا نشاں مل جائے
جتنی دوری بھی بڑھی
فاصلے آئینہ بن گئے
جتنے لمحے تھے خاموش
سب ترے قصے بن گئے
اب نہ کہنا کہ بچھڑ کر
سب مٹا دیتا ہے وقت
کچھ تعلق تو زمانوں کے لیے
راستہ بن گئے
اور اگر کوئی کبھی
میرا تعارف پوچھے
مسکرا کر یہی کہنا...
"وہ کسی ایک نام میں نہیں سما سکا...
مگر ایک نام میں ہمیشہ زندہ رہا."