
دو ۔۔ ورق ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
دو ورق
ایک تصویر کے دو ٹکڑے
ایک کہانی کے دو ورق
ہم تھے کبھی ایک ہی منظر
پھر بٹ گئے سارے سفر
ایک ورق تیرے نام کا تھا
ایک ورق میرے نام کا
درمیان میں کچھ لفظ تھے
جو بن گئے خاموش صدا
ہم ساتھ چلے کچھ دور تلک
راستے بھی اپنے لگتے تھے
آنکھوں میں ایک یقین سا تھا
دن بھی ہمارے لگتے تھے
پھر وقت نے رنگ بدل ڈالا
باتوں کا لہجہ بدل گیا
جو قرب کبھی محسوس ہوا تھا
وہ آہستہ آہستہ مٹ گیا
نہ پہلے جیسی بات رہی
نہ وہ ہنسی، نہ وہ بےفکری
ہم پاس کھڑے تھے پھر بھی
دل میں بڑھتی گئی دوری
کچھ باتیں کہہ کر رک گئیں
کچھ باتیں دل میں رہ گئیں
ہونٹوں تک آ کر لفظ کئی
خاموشی میں ہی بہہ گئیں
پھر ایک دن ایسا آیا
کہ قصہ بکھرنے لگا
ایک شخص اندر سے ٹوٹ گیا
دوسرا صفحوں سے نکل گیا
حقیقت ہے... اس قصے میں
ایک شخص مر گیا تھا
دوسرا زندہ تھا لیکن
وہ بھی خود سے بچھڑ گیا تھا
وہ کہانی سے باہر نکلا
مگر یادوں سے نکل نہ سکا
کتاب بند کر دی اس نے
مگر دل سے اسے مٹا نہ سکا
تصویر آج بھی باقی ہے
بس دونوں حصے جدا جدا
آدھا عکس میرے پاس ہے
آدھا شاید تیرے پاس رہا
کبھی سوچوں تو دل پوچھے
آخر ایسا کیوں ہو گیا؟
جو کل تک اپنا لگتا تھا
وہ آج اتنا دور کیوں ہو گیا؟
کیا جدائی پہلے لکھی تھی؟
یا ہم نے خود اسے چنا؟
کیا وقت ہی بےرحم تھا
یا ہم نے ایک دوسرے کو کھو دیا؟
میں آج تجھے الزام نہ دوں
نہ اپنے دل کو ملامت کروں
کچھ رشتے سانس تو لیتے ہیں
مگر ان میں زندگی نہیں رہتی
کچھ لوگ بچھڑ کر بھی
دل کے اندر رہ جاتے ہیں
کچھ قصے ختم ہو کر بھی
اپنی آواز سناتے ہیں
اگر کبھی مجھے یاد کرے
تو لفظوں میں مجھے ڈھونڈنا نہیں
اس آخری سطر کو پڑھ لینا
جو ہم مکمل کر نہ سکے کبھی
ایک تصویر کے دو ٹکڑے
ایک کہانی کے دو ورق
ایک یہاں رک گیا آخر
ایک نکل گیا اس قصے سے
مگر یہ قصہ جانتا ہے
ہم ایک زمانے میں ایک تھے
پھر وقت نے صفحے بانٹ دیے
اور ہم دو الگ کہانیاں ہو گئے۔