
میں تجھکو چاہوں۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
# میں تجھ کو چاہوں، تو کیوں مجھ سے خفا؟
سحر کے گنبدوں پہ زردی سی اُتری
نسیمِ صبح نے خاموشی سی بُنتی
میں نے جب تیرا نام لبوں پر لیا
دلِ بےتاب میں اک شمع سی جُڑتی
چاندنی نے درختوں پہ ریشم بچھایا
دور وادی میں اک نقرئی سا سایا
میں نے راہِ وفا میں قدم رکھ دیا
اور ہر نقش نے تیرا ہی پتا بتایا
اُردوئے دل میں، ایک آرزو جاگ اٹھی
فارسی نغمگی، میری روح میں گھلتی
“ای جانِ من” کہہ کے میں نے پکارا تجھے
تو ہوا میں بھی خوشبو کی صورت مچلتی
شہر کی روشنیوں میں بھی تنہائی تھی
مرمرِ وقت پر اک گہری کہانی تھی
میں نے پانی پہ لکھا تیرا نامِ گرامی
اور لہروں نے خود اس کی ترجمانی تھی
ایک باغِ خموشاں میں شبنم اُتری
گلِ نارنج پر قطرۂ نور بکھری
میں نے سجدۂ شوق میں سر رکھ دیا
دل نے آہستہ کہا: “یہی ہے حضوری”
ہوا کے دوش پر جب تری آہٹ آئی
میرے اندر کئی سلطنتیں جاگ آئی
“دلم تنگ است” کی صدائیں اُبھریں
اور خاموشی نے پھر نوا سا سنائی
میں تجھ کو چاہوں، تو کیوں مجھ سے خفا؟
جانِ دل، جانِ جہاں، تو ہی میرا شفا
ہو ہو ہو، اے دور کے ماہتاب
تیری ایک جھلک سے روشن مرا آسمان ہوا
ریل کی کھڑکی سے گزرا کوئی سبزہ زار
دھوپ میں لرزتا ہوا زریں چنار
میں نے سوچا کہ اگر تو قریب آ جائے
تو بدل جائے مرے دل کا سارا بہار
ایک پرانی حویلی کے اندر خاموش
سنگ و آئینہ، صدا سے پرے، بےکوش
میں نے تیری یاد کو تاج پہنا دیا
اور دل نے کہا: “یہی ہے عشقِ ملوک”
“عزیزم، بیا” کی صدا جب کہیں دور سے آئی
روح نے اپنے دریچوں میں روشنی پائی
میں نے پلکوں کے محراب میں رکھ دیا صبر
اور دعا نے ترے نام سے راہ بنائی
اب مرے لفظ سبھی دربار کے لائق
اور مرے درد کے آداب ہیں طارق
میں نے چاہا فقط ایک ہی منزل
“تو قریب آ جائے” — یہی ہے مرے شائق
میں تجھ کو چاہوں، تو کیوں مجھ سے خفا؟
جانِ دل، جانِ جہاں، تو ہی میرا شفا
ہو ہو ہو، اے دور کے ماہتاب
تیری ایک جھلک سے روشن مرا آسمان ہوا