
بدلے ہوئے دل پہ زور نہیں ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
بدلے ہوئے دل پہ زور نہیں
بدلے ہوئے دل پہ زور نہیں
جس دل میں چاہت نہ ہو، مجبور نہیں
رنگِ احساس بدل جائے، موسم بھی بدل جاتا ہے
خاموشی کی ایک صدا سے، رشتہ دور نکل جاتا ہے
کسی کے دل کی راہ پہ، پہرے بٹھائے نہیں جاتے
بے رنگ ہوئی دھڑکنوں میں، رنگ سجائے نہیں جاتے
بدلے ہوئے دل پہ زور نہیں
جس دل میں چاہت نہ ہو، مجبور نہیں
جس سمت ہوا لے جائے، پتھر بھی وہیں ٹھہر جاتے ہیں
ٹوٹے ہوئے خوابوں کے رستے، خود ہی کہیں بکھر جاتے ہیں
چاہت مانگی جائے تو، اُس میں خوشبو کہاں رہتی ہے
بے اختیار دھڑکن کی، وہ پہلی سی بات کہاں رہتی ہے
ایک طرف سے جلتا چراغ، گھر کو روشن کر سکتا ہے
پر خالی آنگن کا موسم، کب تک تنہا رہ سکتا ہے
سچائی سے جو پاس رہے، اُس کا ساتھ گراں ہوتا ہے
جس لمحے دل بدل جائے، ہر وعدہ بے زباں ہوتا ہے
کوئی گلہ باقی نہ رہے، کوئی سوال بھی کم ہو جائے
فاصلہ اپنی جگہ رہے، دل پھر بھی محترم ہو جائے
راہیں اپنی اپنی ہوں تو، قدموں کو روکا نہیں جاتا
جس نے رخ موڑ لیا ہو، اُس کو پکارا نہیں جاتا
زخم پرانی باتوں کے، وقت کی دھول میں سو جائیں
بچھڑے ہوئے کچھ لمحے، یادوں میں آ کر رو جائیں
کچھ رشتے نام نہیں لیتے، پھر بھی دل میں رہتے ہیں
کچھ قصے ختم ہو کر بھی، مدت تک زندہ رہتے ہیں
ایک محبت ایسی بھی، خاموشی میں پلتی ہے
جانے والے کی خوشی خاطر، خود سے جنگ بھی کرتی ہے
دل کو یہ سمجھانا پڑتا ہے، ہر خواہش حق نہیں ہوتی
ہر چاہت کی منزل آخر، اپنی مرضی سے نہیں ہوتی
جو کچھ تھا، سچ تھا لیکن، اب اُس کا موسم گزر گیا
ایک تعلق دل میں تھا، وقت کے ہاتھوں بکھر گیا
نہ کوئی الزام باقی، نہ کوئی حساب رکھا
جو ہاتھ چھوٹ گیا اُس کا، دل نے بس احترام رکھا
کل کی باتیں کل میں رہیں، آج کو آج ہی رہنے دو
جو رستہ پیچھے چھوٹ گیا، اُس کو وہیں پہ رہنے دو
درد اگر خاموش رہے تو، آہستہ آہستہ ڈھلتا ہے
دل بھی آخر وقت کے ساتھ، اپنے اندر سنبھلتا ہے
کبھی کسی کی یاد اچانک، سانسوں میں اتر آتی ہے
پھر ایک پرانی خوشبو، ساری دنیا بھر جاتی ہے
لیکن بدلے ہوئے موسم کو، عمر بھر تھاما نہیں جاتا
جس دل نے دروازہ بند کیا، اُس پر دستک دیا نہیں جاتا
بدلے ہوئے دل پہ زور نہیں
جس دل میں چاہت نہ ہو، مجبور نہیں