گلے کی آخر میں ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔ cover art

گلے کی آخر میں ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Rock song · 4:25 · 7 plays

Lyrics

**گلی کے آخر میں**
ایک چراغ جلتا تھا
میں ہر شام وہاں
بس تھوڑی دیر رُکتا تھا

نہ کسی سے کچھ کہا
نہ کسی نے کچھ پوچھا
مگر دل کو لگتا تھا
جیسے کوئی خاموشی بولتی ہے

میں نے تمہارا نام
ہوا میں چھوڑ دیا
اور ہوا نے
اسے شہر بھر میں پھیلا دیا

کچھ لوگ ہنسے
کچھ نے نظر چرا لی
مگر میرے اندر
ایک پرانی امید جاگ گئی

---

**میں نے بارش میں
اپنا عکس دیکھا**
تو لگا
میں ابھی تک وہی ہوں

وہی جو
ایک جواب کے لیے
بہت دن
اپنے دل سے لڑتا رہا

تم نہ آئیں
تو بھی میں ٹوٹا نہیں
بس اتنا ہوا
کہ دل نے
خود کو آہستہ بولنا سکھا دیا

---

**رات نے پوچھا**
کس کا انتظار ہے؟
میں نے کہا
جو ابھی تک دل میں رہتا ہے

اس نے ہلکی سی ہوا بھیجی
اور کھڑکی کے پاس
تیرا خیال بیٹھ گیا

میں نے آنکھ بند کی
تو سب کچھ تھم گیا
جیسے وقت بھی
تیرے نام سے ڈر گیا

---

**اب بھی کبھی کبھی**
دل کہتا ہے
کاش وہ موڑ
پھر سے مل جائے

کاش وہ لمحہ
دوبارہ آ جائے
جہاں میں نے
تجھ سے پہلی بار
خاموشی میں بات کی تھی

مگر زندگی
واپس نہیں آتی
وہ صرف
یاد بن کر رہ جاتی ہے

---

**اور میں**
آج بھی
اسی یاد کو
آواز میں بدلتا ہوں

تاکہ جب گانا چلے
تو لگے
یہ کسی کہانی کا نہیں
کسی جیتے جاگتے دل کا درد ہے

--

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI