
بارش ک قطرے ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
بارش کے قطرے
بارش کے قطرے قطرے میں
تیرا چہرہ دیکھا
آج میرے شہر کی گلیوں میں
پھر تجھے چلتے دیکھا
وہی گلی، وہی دروازہ
وہی شام کا منظر تھا
بارش پہلی بار نہیں تھی
مگر آج دل بے خبر تھا
کھڑکی کے پاس کھڑا ہو کر
میں دیر تلک بارش دیکھتا رہا
ہر بوند کو ہاتھوں میں لے کر
تیرا نام پکارتا رہا
میں نے شہر سے پوچھا
وہ جس کو میں چاہتا ہوں، کہاں ہے
گلیوں نے خاموشی اوڑھ لی
ہوا نے کہا، وہ دور کہیں ہے
تب دل نے مجھ سے آہستہ کہا
تو نے اسے بھلایا کب ہے
فاصلہ چاہے جتنا ہو
یہ عشق تجھ سے جدا کب ہے
میں نے آنکھیں بند کیں
تیرا چہرہ سامنے آ گیا
ایک بھیگی ہوئی خوشبو سے
پورا زمانہ لوٹ آیا
یاد آیا وہ وقت
جب تو میرے پاس ہنستی تھی
چھوٹی سی بات پہ روٹھ کر
پھر خود ہی مجھے مناتی تھی
اب وہی شہر ہے میرے پاس
مگر تو میرے ساتھ نہیں
لوگ بہت ہیں آس پاس
پر تیرے جیسی کوئی بات نہیں
اے جانِ تمنا، سن لے
میں نے تجھے بھلایا نہیں
دنیا نے جو بھی سمجھا ہو
میں نے دل سے تجھے نکالا نہیں
اگر کبھی میری باتوں نے
تیرا دل آزردہ کیا
اگر میری کسی خطا نے
تیری آنکھوں کو نم کیا
تو آج اسی بارش کے نیچے
سر جھکا کر کہتا ہوں
جو درد دیا، اس پر شرمندہ ہوں
تجھ سے معافی مانگتا ہوں
مجھے معاف کر دے جاناں
میری نادانی سمجھ کر
میں تجھے دکھ دینا نہ چاہتا تھا
میری بے قراری سمجھ کر
قسم اس بھیگی رت کی
قسم ان بھیگی راہوں کی
میں آج بھی تجھ سے محبت کرتا ہوں
قسم اپنی تنہائیوں کی
میں تیرا دیوانہ ہوں
یہ راز نیا نہیں
تو میری راحت ہے
تجھ سی کوئی دوا نہیں
تو دور ہے تو کیا ہوا
میری سانسوں میں شامل ہے
میرے شہر کی ہر بھیگی گلی
آج بھی تیری محفل ہے
جب بارش آتی ہے
دل تجھے ڈھونڈنے لگتا ہے
ہر قطرہ میرے سینے پر
تیرا نام لکھنے لگتا ہے
گویا فلک سے نورِ تجلّی
آج زمین پر اتر آیا
میرے شہرِ دل کی خاک کو
تری یاد نے منوّر بنایا
ہر قطرۂ باراں میں
ایک رازِ محبت جاگا
ہر سو نظر جب بھی دیکھا
تیرا جلوۂ جاناں جاگا
اے ماہِ رُخسار، اے جانِ وفا
تیری الفت میرا سرمایہ
تو سامنے نہ ہو پھر بھی
دل نے تیرا دامن تھاما
میں تشنۂ دیدار بیٹھا ہوں
تیری ایک نظر کے واسطے
یہ دل مدت سے پیاسا ہے
تری ایک خبر کے واسطے
نہ دنیا کی رونق چاہیے
بس تیری قربت کا احساس چاہیے
نہ کوئی اور خواہش باقی ہے
بس تیرا لوٹ آنا چاہیے
تیرے بغیر یہ زندگی
خالی صدا سی لگتی ہے
تو نہ ہو تو میری دنیا
بے معنی سی لگتی ہے
میری ہر خوشی ادھوری ہے
میری ہر راہ سنسان
تو میری راحت، تو میری جان
تو ہی میری پہچان
بارش پھر تیز ہوئی
اور شہر بھیگتا رہا
میں تیرا نام لیے چپ چاپ
اسی گلی میں کھڑا رہا
پھر ایک بوند میرے چہرے پر
آ کر ٹھہر سی گئی
یوں لگا جیسے دور کہیں
تیری انگلی مجھے چھو گئی
میں مسکرایا، دل نے کہا
وہ مجھ سے دور کہاں ہے
جسے عشق سے پکارو
وہ دل سے جدا کہاں ہے
بارش کے قطرے قطرے میں
تیرا چہرہ دیکھا
ہر بوند میں تیری یاد ملی
ہر سمت تجھے ہی دیکھا
بارش کے قطرے قطرے میں
تیرا جلوۂ جاناں دیکھا
میرے شہر کی بھیگی راتوں میں
اپنا سارا جہاں دیکھا
تو دور سہی، اے جاناں
دل تجھ سے دور نہیں
میں آج بھی تیرا ہوں
اس عشق کی کوئی حد نہیں
بارش کے قطرے قطرے میں
تیرا چہرہ دیکھا
میں نے تجھے بھلایا نہیں
میں نے تجھے بھلایا نہیں
تو میری راحت، تو میری جان
تو میری آرزو، تو میری شان
تیرے بغیر یہ دل کیا ہے
تیرے بغیر یہ زندگی کیا ہے
بارش کے قطرے قطرے میں
تیرا چہرہ دیکھا
ہر بوند نے تجھ کو پکارا
اور میں نے تجھے اپنا دیکھا