
فراق. ... جميل. شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
فراقِ جمیل
VERSE
وہ چلے گئے تو بھی دل نے کہا، ابھی وہی ہیں
ہجر کی راہ میں ہم دونوں کے مآویٰ وہی ہیں
فاصلہ جسم کا تھا، روح تو نزدیک رہی
دور جا کر بھی مرے دل میں تماشا وہی ہیں
میں نے دروازۂ دل پر کئی چراغ جلائے
پھر بھی خاموش فضا میں مرے دریا وہی ہیں
رخصتی لمحہ تھا، لیکن وہ عجب ناز سے گزرے
جیسے ہر موڑ پہ باقی کوئی قصہ وہی ہیں
CHORUS
اب بھی آتی ہے ہوا، اُن کے تبسم کی خبر
میرے آنسو بھی وہی درد سنبھالتے ہیں
ہر دھڑکن میں ابھی اُن کی صدا باقی ہے
دل کے آئینے میں اک تصویر اُنہی کی باقی ہے
VERSE
اب بھی آتی ہے ہوا، اُن کے تبسم کی خبر
اور اس خبر میں مرے اشک کا رستہ وہی ہیں
ہم جدائی میں بھی ایک دوسرے کے ہم سفر رہے
جسم بچھڑا، مگر احساس میں رشتہ وہی ہیں
نہ شکایت، نہ صدا، نہ کوئی شکوۂ دل
ہجر کے بعد بھی ان یادوں کا چرچا وہی ہیں
رات نے مجھ کو سکھایا کہ جدائی بھی جمال ہے
ورنہ ہر غم میں مرے عشق کا دریا وہی ہیں
میں نے رخصت کے ہر اک لفظ کو سنبھال رکھا
کہ انہی لفظوں میں شاید کوئی دریا وہی ہیں
ان کی دوری نے مجھے اور بھی نزدیک کیا
ورنہ اہلِ دل کو اب تک یہی سودا وہی ہیں
اب بھی جب نام لیا جائے تو دل کانپ اٹھے
کیونکہ سینے میں وہی نرم سا صدمہ وہی ہیں
فراق میں بھی وفا کا چراغ جلتا رہا
اور اسی نور میں مجھ کو تماشا وہی ہیں
میں نے اس بچھڑنے میں بھی اک عجب راحت پائی
کہ جدائی میں بھی کچھ حسنِ تماشا وہی ہیں
CHORUS
اب بھی آتی ہے ہوا، اُن کے تبسم کی خبر
میرے آنسو بھی وہی درد سنبھالتے ہیں
ہر دھڑکن میں ابھی اُن کی صدا باقی ہے
دل کے آئینے میں اک تصویر اُنہی کی باقی ہے