شمع خیال ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

شمع خیال ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Rock song · 5:14 · 9 plays

Lyrics

"شمعِ خیال"

رات بھر تیرے خیالوں کی رُت جگمگاتی رہی
دل کی بستی میں کوئی شمع جھلملاتی رہی

تیری خوشبو تھی کہ جیسے کوئی موسم آیا ہو
سانس سانس اترتی رہی، روح مہکاتی رہی

تو نے جو بات چھپائی تھی آنکھ کی پتلی میں
رات بھر وہ مرے سینے میں دہکتی رہی

میں نے چپ رہ کے بھی تجھ سے وہ گلہ کر ڈالا
جو تیری یاد کی شبنم تھی، برستی رہی

آپ سے وعدہ لیا ہے کہ نہ ہونٹوں پہ آئے
وہ جو خاموشی کی گہرائی میں اک بات دبی ہے کہیں

آپ کے راز کو راز ہی رہنے دیجے
آپ کی آنکھ سے رسوائی کا ڈر لگتا ہے

آپ تو محبوب ہیں، میری عبادت کی طرح
آپ تو روح ہیں، سانس کی نرمی کی طرح

میری جاں سے بھی زیادہ ہے تمنا تیری
تو وہ ہیرا ہے جو دل کی کان میں چمکا کرے

آپ کی زبان سے کوئی حرف نہ آئے ایسا
جس سے کردار کی دیوار میں دراڑ آئے

میں تو پاگل ہوں، مری بات کا کیا اعتبار
آپ کی تعریف ہر ایک محفل میں کرتا ہوں

میرے دیوانے پن کا کوئی گلہ مت کیجے
آپ کو دوش نہ دیجے، یہ جنون ہے اپنا

آپ یاد نہیں ہیں مرے دل کی کسی گوشے میں
آپ تو خود ہی مرے دل کی دھڑکن ٹھہرے

آپ، میں آپ نہیں، آپ تو میں ہو جا ؤ
یہ فاصلے بھی ہمارے ہیں، وصل کا پردہ

آپ جس سانس سے نکلے ہیں، وہی روح ہے آپ
آپ کی روح کو کون آ کے ستاتا ہے بھلا

کون ہے وہ جو ترے نور کو چھو سکتا ہے
کون ہے وہ جو ترے عکس کو مٹا سکتا ہے

رات بھر تیرے باتیں دل گاتا رہا
ایک تھکا ہوا مسافر، تیرا راگ گاتا رہا

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI