
یقین کر۔۔۔ لو۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
یقین کر لو
یقین کر لو... تم ہی میری جان ہو،
یقین کر لو... تم ہی میری پہچان ہو۔
تمہارے سوا کوئی دل کو بھایا نہیں،
میری دنیا میں بس تم ہی میری شان ہو۔
اپنا دل نہ دکھانا، آنکھ نہ بھر آئے،
شک کی دیواریں اب دل میں نہ بنائے۔
تم میری دعا نہیں... تم میری صدا ہو،
میری ہر دھڑکن کی تم ہی وفا ہو۔
اپنے دل کو ذرا آج تسلی دے دو،
اپنی سوچوں کو بھی روشنی دے دو۔
تم ہی میری منزل، تم ہی میرا گھر،
تم سے ہی روشن ہے میری ہر سحر۔
اے حسن کی ملکہ، خفا مت ہونا،
میرے عشق پر کبھی گماں مت ہونا۔
میں تم سے محبت ہر سانس میں کرتا ہوں،
یہ سچ ہے... یہی ہر پل کہتا ہوں۔
عمر کے بیچ فاصلے اگرچہ ہیں،
دل کے رشتے مگر سب سے بڑے ہیں۔
وقت نے برسوں کی دیوار کھڑی کی،
دل نے ہر دیوار خاموشی سے توڑ دی۔
کاش میں پھر سے جوان ہو جاتا،
تمہارے ساتھ ہر خواب سجا لیتا۔
لیکن حقیقت یہی ہے میری جان،
آج بھی تم ہو میری پہچان۔
یہ ملاقات شاید قسمت میں لکھی ہے،
ہر دعا میں تمہاری خوشبو بسی ہے۔
یہ نہ کہنا کہ میں نصیب نہیں،
یہ نہ کہنا کہ میں قریب نہیں۔
میں بھی مجبور ہوں، تم بھی مجبور ہو،
اپنی اپنی راہوں میں دونوں دور ہو۔
پھر بھی دل ہر لمحہ یہی کہتا ہے،
ایک دن وقت ہمیں ملا دیتا ہے۔
کب سورج چاند سے مل پایا ہے؟
کب پھول نے درخت کو اپنایا ہے؟
کب چاندنی سورج کی کرن بنی؟
یہ سب خوابوں کی کہانی بنی۔
شاید اک دن معجزہ ہو جائے،
قسمت کا موسم بدل ہی جائے۔
پھر تم بھی ہو... اور میں بھی ہوں،
ایک ہی راستے پر چلتے ہوں۔
ہم بھی ملنا چاہتے ہیں،
ہم بھی اک دنیا بسانا چاہتے ہیں۔
سورج بھی چاند سے ملنا چاہتا ہے،
بس ستاروں سے ذرا شرماتا ہے۔
اور میرا دل ہر لمحہ یہی کہتا ہے...
یقین کر لو... تم ہی میری محبت ہو،
یقین کر لو... میری آخری چاہت ہو۔
تمہارے سوا نہ کوئی تھا، نہ کوئی ہے،
میری ہر سانس میں بس تم ہی تم ہو۔