
شوق بعید۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
## **شوقِ بعید**
وہ ایک شہر میں ہے،
اور میں ایک اور شہر میں
درمیان میں رستے نہیں،
صرف فاصلے ہیں
اور فاصلے بھی ایسے
جو دل کو روز نیا نامِ جدائی دیتے ہیں
میں اسے سوچتا ہوں تو
آسمان لمبا ہو جاتا ہے
اور راتیں اور بھی خاموش
اور دن اور بھی بھاری
وہ بہت خوبصورت ہے
اتنی کہ
خوف بھی اس کے ساتھ چلتا ہے
اور دعا بھی
میں اس کی سلامتی کے لیے
اپنے دل کی سب سے نرم جگہ پر
ایک چراغ رکھ دیتا ہوں
میں اس سے محبت کرتا ہوں
محض محبت نہیں
ایک ایسی بےقراری سے
جسے لفظ بھی سنبھال نہ سکیں
جیسے دل نے
اپنی حد سے بڑھ کر
کسی ایک نام کو
اپنا وطن بنا لیا ہو
وہ دور ہے
بہت دور
اتنا کہ
میری آنکھ اس تک نہیں پہنچتی
مگر خیال پہنچ جاتا ہے
میری نیند اس تک نہیں جاتی
مگر خواب چلے جاتے ہیں
میں ڈرتا ہوں
کہ کہیں اسے کچھ ہو نہ جائے
کہیں اس کی ہنسی کو
کوئی اجنبی ہوا نہ چھو لے
کہیں اس کی راہوں میں
کوئی اندھیرا نہ اتر آئے
اس کی حفاظت کی خواہش
میرے اندر
ایک مسلسل دعا کی صورت رہتی ہے
کاش
میں اس کے شہر کی پہلی گلی میں کھڑا ہوتا
کاش
میں اس کے دروازے تک صرف اتنا فاصلہ رکھتا
کہ دستک دے سکوں
اور وہ
بس ایک بار
میرے نام سے دروازہ کھول دے
لیکن نہیں
ہمارے درمیان
شہر ہیں
سفر ہیں
مصروف دن ہیں
خاموش راتیں ہیں
اور وہ سب کچھ
جو دو دلوں کو قریب آنا سکھاتا نہیں
صرف دور رہنا سکھاتا ہے
فراق نے ہم دونوں کو
چپ چاپ تھکا دیا ہے
وہ بھی شاید
اسی شوق میں جاگتی ہوگی
جیسے میں جاگتا ہوں
وہ بھی شاید
کسی لمحے
میرا نام سوچ کر
خاموش ہو جاتی ہوگی
میں جانتا ہوں
یہ محبت آسان نہیں
یہ وہ محبت ہے
جو دوری میں بھی جیتی ہے
اور درد میں بھی سانس لیتی ہے
اس کی یاد
میرے دل میں ایسے رہتی ہے
جیسے صحراؤں میں پانی کی امید
دور
بہت دور
مگر زندہ
میں چاہتا ہوں
بس ایک بار
اسے دیکھ لوں
اس کی آنکھوں میں
اپنے لیے تھوڑی سی پہچان دیکھ لوں
اس کی آواز سن لوں
اس کے چہرے پر
دن کی روشنی اُترتی دیکھ لوں
مگر فاصلے
ہماری چاہت سے بڑے نکلے
وقت
ہماری خواہش سے سخت نکلا
اور نصیب
ہماری ملاقات سے پہلے ہی
خاموشی میں لپٹ گیا
پھر بھی
میں اس سے محبت کرتا ہوں
ایسی محبت
جو دوری سے کم نہیں ہوتی
بلکہ اور گہری ہو جاتی ہے
جو ملنے کی کمی میں
اور زیادہ سچ ہو جاتی ہے
اگر کبھی
یہ فاصلے نرم ہو جائیں
اگر کبھی
یہ شہروں کی دیواریں جھک جائیں
تو میں صرف ایک لمحہ چاہوں گا
اسے سامنے دیکھنے کا
بس ایک نظر
بس ایک سانس
بس اتنا کہ دل
اپنی ساری تھکن
اس کے چہرے پر رکھ دے
اور اگر یہ بھی نصیب نہ ہوا
تو بھی
میں اسے چاہوں گا
اس بےقراری کے ساتھ
اس حفاظت کے ساتھ
اس جنون کے ساتھ
جو دور رہ کر بھی
کسی کو دل سے نہیں نکالتا
وہ دور ہے
مگر مجھ میں زندہ ہے
اور شاید
میں بھی
اسی کے خیال میں
دور ہو کر بھی
کہیں نہ کہیں
اس کے قریب ہوں
---