
نصیب سے ہاری ہوئی محبت ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
نصیب سے ہاری ہوئی محبت
کیسے بھول جاؤں تمہیں، جب تم میری ہوئی ہی نہیں
کیسے مٹا دوں وہ اثر، جو دل سے کبھی گیا ہی نہیں
تیری مسکراہٹ کی وہ روشنی، آج بھی دل کو چھوتی ہے
تیری آواز کی وہ مٹھاس، خاموش لمحوں میں سنائی دیتی ہے
تم نے شاید کبھی جانا نہیں، میرے دل کا یہ حال
مگر میری ہر سوچ نے، تیرا ہی راستہ چنا ہے
کیسے بھولوں تیری آنکھوں کی وہ معصوم سی کہانی
کیسے بھولوں تیری باتوں کی وہ پیاری سی روانی
کچھ لوگ قریب ہو کر بھی، قسمت میں نہیں ہوتے
اور کچھ دور رہ کر بھی، دل سے جدا نہیں ہوتے
میں جانتا ہوں، تیری دنیا میں میرا مقام نہیں
تیرے دل کی کتاب میں، شاید میرا کوئی نام نہیں
پھر بھی میری محبت میں، کوئی شکایت نہیں ہوگی
تیری خوشی کے سامنے، میری ہر خواہش کم ہوگی
اگر تو میرے نصیب میں نہیں، تو بھی تجھے چاہوں گا
دور رہ کر بھی تیری خوشیوں کی دعا کروں گا
محبت صرف حاصل کرنے کا نام نہیں ہوتا
کبھی کسی کو کھو کر بھی دل سے چاہا جاتا ہے
میں نے تیرے سامنے اپنی چاہت کا سوال نہیں رکھا
اپنے ٹوٹے ہوئے دل کا کوئی ملال نہیں رکھا
بس اتنا چاہا کہ تو ہمیشہ مسکراتی رہے
چاہے میری قسمت میں تیرا ساتھ نہ رہے
وقت گزر جائے گا، موسم بدل جائیں گے
کچھ چہرے مگر دل کے اندر رہ جائیں گے
تو اپنی دنیا میں خوش رہنا جانِ من
ہم اپنی خاموش محبت کو ہمیشہ سنبھالیں گے
نصیب سے ہار گئی شاید ہماری محبت
مگر دل سے کبھی ہاری نہیں یہ چاہت
تو میری نہ بن سکی، یہ قسمت کا فیصلہ تھا
مگر تجھے سچا چاہنا، میری زندگی کا حاصل تھا