
حسینہ ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
Male
حسینہ، میں تجھے چاہوں، یہ مرا جرم سہی
تری خاطر دھڑکتا ہے یہ دلِ بےقرار
ازل سے تری چاہت میں گرفتار ہوں میں
تیری اک دید نے کر ڈالا مجھے دیوانہ وار
Female
پاگل، اتنی محبت کا دعویٰ نہ کر
میں وہ خوشبو ہوں جو ہر دل میں بسی نہیں رہتی
میری اک مسکراہٹ پہ زمانہ ٹھہرے
میری اک نظر سے دھڑکن سنبھلتی نہیں
Male
تری آنکھوں میں جو دیکھا، وہ دنیا میں کہاں
تری زلفوں جیسی کوئی گھٹا اور کہاں
تو مجھے روک بھی دے، دل کہاں رک پائے گا
میری قسمت میں تو ہے، پھر خوف کہاں
Female
میرے دل کا فیصلہ تو نے کب کر ڈالا؟
اپنی چاہت کو مرا آخری اقرار سمجھا؟
میں وہ ادا ہوں جسے پانے کے لیے
عمر لگ جائے تو بھی خود کو طلبگار سمجھا
Male
تیرا غرور بھی سر آنکھوں پہ رکھا ہے میں نے
تیرا ہر ناز مجھے اور بھی بھاتا ہے صنم
تو جو دوری سے مجھے اور ستاتی ہے کبھی
تیری اس دوری میں بھی قربت ہے، قسم
Female
میرے انکار کو اتنا سہل مت سمجھ
میری خاموشی کو اپنی جیت نہ سمجھ
میں اگر چاہوں تو اک پل میں بھلا دوں تجھے
اپنی چاہت کو مری کمزوری نہ سمجھ
Male
تو بھلا دے گی مجھے؟ دل یہ مانتا نہیں
تیری آواز میں اک راز چھپا رہتا ہے
تو کہے کچھ بھی نہیں تیرے لیے میں
تیری آنکھوں میں مگر میرا نشاں رہتا ہے
Female
آنکھوں کو پڑھنے کا دعویٰ کمال ہے تیرا
ہر نظر کو مری چاہت کا اشارہ نہ بنا
میں جو دیکھوں تجھے، یہ میری عادت بھی تو ہے
ہر نظر کو محبت کا اقرار نہ بنا
Male
پھر یہ دل کیوں تری آہٹ پہ دھڑک اٹھتا ہے؟
تیرا نام آئے تو سانسوں میں مہک آتی ہے
تو گزر جائے تو موسم بھی بدل جاتا ہے
تیری خوشبو سے مری رات سنور جاتی ہے
Female
یہ تری اپنی محبت کا اثر ہے شاید
مجھ پہ الزام نہ رکھ، خود ہی دیوانہ ہو
میں تو بیٹھی تھی، تو خود میرا افسانہ ہوا
لوگ کہتے ہیں کہ میں دل کو چرا لیتی ہوں
Male
ہاں، میں خود آیا ہوں، یہ جرم منظور مجھے
تیری چوکھٹ پہ محبت کا فقیر ہوں میں
نہ کوئی تاج لاؤں گا، نہ وعدہ جھوٹا
اپنی سچی محبت ہی دکھا سکتا ہوں
Male
میں زمانے کا نہیں، تیرا پرستار ہوں فقط
میری چاہت کو زمانے کے ترازو میں نہ تول
تو مجھے سالوں تلک آزما سکتی ہے مگر
میرے دل سے ترے نام کو مٹا سکتی نہیں
Female
ایک عمر بھی مجھے جیتنے میں لگ جائے تو کیا
اسے عشق کا سفر سمجھ کے چلنا ہوگا
میں ابھی ہاں نہیں کہتی، یہ مرا حق بھی ہے
میرے دل تک تجھے آہستہ آنا ہوگا
Male
تیری ہاں کی مجھے جلدی بھی نہیں ہے جاناں
بس کبھی دل سے مری سمت نظر کر دینا
تری راہ میں خاموش کھڑا رہوں گا
تو چاہے تو اک بار صدا کر دینا
Female
یہ جو لہجہ ہے ترا، دل کو چھو جاتا ہے
تیری یہ ضد بھی مجھے کچھ اچھی لگتی ہے
میں نے سوچا تھا تجھے آج بھگا دوں گی مگر
کیا کروں؟ تیری وفا مجھے اچھی لگتی ہے
Male
تو نے مانا کہ ذرا دل میں جگہ ہے میری؟
تیری خاموشی نے کچھ تو مجھے اقرار دیا؟
Female
میں نے کب کہا کہ مکمل مرا دل تیرا ہے؟
اتنی جلدی نہ اڑا اپنی فتح کا پرچم
بس یہ مانا ہے کہ کچھ رنگ ترے نام کا ہے
اور یہ رنگ بھی ابھی میرے اختیار میں ہے
Male
اتنا کافی ہے، میں عمر گزار سکتا ہوں
تیری اک رضا پر میں سنور سکتا ہوں
تیری اک نرم نظر میرے لیے دنیا ہے
میں ترے نام پہ ہر درد سہہ سکتا ہوں
Female
اور اگر میں تجھے پھر بھی ستاؤں تو؟
Male
تیری ہر ادا کو محبت سمجھ کر سہہ لوں گا
Female
اور اگر روٹھ کے دور چلی جاؤں؟
Male
تیری راہ میں چراغ بن کے وہیں جلوں گا
Female
اور اگر کہوں، ثابت کر اپنی چاہت؟
Male
اپنی ہر سانس ترے نام کروں گا جاناں
Female
اور اگر میرا غرور ابھی باقی ہے؟
Male
تری ہر ادا میرے لیے تاج ہے جاناں
Female
تو بھی عجیب شخص ہے، ہارتا ہی نہیں
میرے انکار سے بھی ٹوٹتا ہی نہیں
Male
کیونکہ تیری چاہت میری ضد نہیں، قسمت ہے
تجھ سے دوری بھی مجھے تجھ سے ملا دیتی ہے
Female
پھر سن، آج پہلی بار دل نے مانا ہے
تری باتوں میں کہیں رنگِ وفا باقی ہے
میں نے تجھے چاہا ہے مگر نام نہیں لیا
دل نے تجھے مانا ہے مگر اقرار نہیں کیا
میری خاموش نگاہوں نے تجھے سب کچھ کہا
لب کھول کے پھر بھی اظہار نہیں کیا
Male
پھر چھپا مت، مجھے آنکھوں سے پڑھنے دے
اپنی خاموش محبت کو زباں ہونے دے
میں نے عمر بھر ترے خواب سجائے ہیں صنم
آج اک بار مجھے اپنا کہہ کے جینے دے
Female
اتنا آسان نہیں، ابھی دل کی انا باقی ہے
میں مکمل تری ہو جاؤں، یہ جلدی نہ کر
مگر اب تجھ سے گریزاں بھی نہیں
میرے دل میں ترے نام کی خوشبو باقی ہے
Male
بس کافی ہے، یہی میری فتح بھی ہے
تیری خاموش رضا میری محبت بھی ہے
اب جو فاصلے ہیں، خود ہی مٹ جائیں گے
تیری آنکھوں میں مری آخری منزل ہے
Female
اگر ہاتھ مرا تھام لیا ہے تو سن
میں نے مشکل سے یہ دل تیرے حوالے کیا ہے
اس امانت کو زمانے سے گنوانا مت کبھی
Male
میں ترے ہاتھ کو چھوڑوں گا نہ دنیا کے لیے
تو مری جان ہے، تجھ سے ہی مری دنیا ہے
جو بھی موسم ہو، ترے ساتھ گزر جائے گا
تیری خوشی میں ہی میری خوشی دنیا ہے
Both
تو مرا عشق، میں تری جانِ وفا بن جاؤں
تو مرا ناز، میں تیرا حسیں راز بن جاؤں
تو اگر روٹھے تو ہنس کر تجھے مناتا رہوں
تو اگر مانے تو دنیا سے بھی جیتا جاؤں
تو مری دھڑکن، میں تیرا ساز بنوں
تو مری منزل، میں تیرا راستہ بنوں
دو دلوں نے جو چھپایا تھا زمانے سے کبھی
آج وہ عشق بنے، آج وہ افسانہ بنوں
Male
اب نہ پوچھوں گا تجھے، مجھ سے محبت ہے کہ نہیں
Female
اب نہ کہوں گی کہ یہ دل تیرا نہیں
Male
اب تری آنکھ ہی میرا جواب ہے جاناں
Female
اب تری چاہت سے انکار بھی ممکن نہیں
Both
عشق نے آج ہمیں ایک جگہ لا کے کھڑا کر دیا
دو دلوں کی کہانی جو ادھوری تھی کبھی
محبت نے اسے آخر مکمل کر دیا
تو مرا یار ہوا، میں تری تقدیر ہوئی
جو دو آوازیں تھیں کل تک جدا جدا
آج وہ ایک ہی نغمہ، ایک تصویر ہوئی