تیرا ۔۔ دیدار ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔ cover art

تیرا ۔۔ دیدار ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 5:39 · 5 plays

Lyrics

تیرا دیدار

تیری یاد دل میں بستی ہے، اے جانِ بہار
تیرا عشق میری سانسوں میں ہے بے شمار

تجھے دیکھنا میرے سرور ہے
میری آنکھیں تیرے چہرے کو ترستی ہیں

تو ہی صبحوں کی دعا، تو ہی شاموں کا نور
تو ہی میرے دل کا سچا، نرم سا سرور

تیری ہنسی سے جاگے، میری دنیا کی فضا
تیری نظر سے ملے، روح کو اک آسرا

میں نے چاہا ہے تجھے، دل سے بھی زیادہ
جیسے چاہے کوئی شب میں، چاندنی کا وعدہ

دل کے آنگن میں تری یاد کی شمع جلی
اور ہر اک دھڑکن میں تیری ہی خوشبو بسی

پھر میں یاد کرتا ہوں وہ قصۂ صبر و نور
یعقوبؑ کا انتظار، اور یوسفؑ کا ظہور

سلیمانؑ کی بادشاہی، تخت و تاج سب
ایک لمحۂ برق تھا، زمانوں کے بیچ کب

ہوا بھی اس کے حکم میں تھی، جھکتی تھی دنیا
مگر عشق کے دل کی قدر، اس سے بھی اونچی سدا

یعقوبؑ کے صبر کا کوئی ثانی نہ تھا
مگر یوسفؑ کا دیدار ہی اس صبر کا انعام تھا

جب اس کا چہرہ چمکا، جب خوشی نے جھانکا
تو آنکھوں میں سفید روشنی اتر آئی

یہ اندھا پن نہ تھا، یہ تو فرطِ سرور تھا
خوشی کے نور سے آنکھیں اجلی ہو گئیں

ایک طویل غم کے بعد، ایک میٹھا وصال
گویا بنجر دل پہ، بہار آ گئی کمال

یوسفؑ کی مسکراہٹ نے دل کو پھر سے جِلا دی
اور یعقوبؑ کے سینے میں امید کی شمع جلا دی

— کورس —
تیرے نام سے روشن، میرا ہر اک جہاں
تیرے عشق میں ڈھونڈا، دل نے اپنا آسماں

تیرے بغیر یہ رنگ، سب کے سب خاموش ہیں
تو مل جائے تو دل کے، سارے غم بے ہوش ہیں

غم کے بعد جو فرج ملے، وہی اصل مسرت ہے
اور ٹوٹے دل کی مرہم، وہی ملاقات ہے

یوسفؑ جب آئے، تو رات بھی سنور گئی
اور یعقوبؑ کی نگاہوں میں بہار اتر آئی

یہی ہے حسنِ صبر، یہی ہے رازِ وصال
کہ دکھ کے بعد ہی کھلتا ہے خوشی کا جمال

— کورس —
تیرے نام سے روشن، میرا ہر اک جہاں
تیرے عشق میں ڈھونڈا، دل نے اپنا آسماں

تیرے بغیر یہ رنگ، سب کے سب خاموش ہیں
تو مل جائے تو دل کے، سارے غم بے ہوش ہیں

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI