
خوآب
Lyrics
آپ کو خوابوں میں دیکھ کر تھگ گیا ہوں
کہ اب آنکھوں پہ اعتبار نہیں
یہ جو ہر شب اترتی ہو مرے خواب کی پلکوں پہ
کبھی چہرہ چھپا کر، کبھی زلفیں بکھیرے
میں تمہیں ڈھونڈتا ہوں نیند کی بے رخی میں
مگر تم تو ملتی ہو بس ایک جھلک کو
پھر اوجھل سی ہو جاتی ہو، جیسے ستارہ
کسی بادل کی آغوش میں ڈوب جائے
میں جاگ اٹھتا ہوں، پھر نیند آتی نہیں ہے
یہی سوچتا ہوں کہ کیوں خواب میں بھی ملو تم
کبھی دیر تک ٹھہر کر بات کر لو
کبھی ہاتھ تھامو، کبھی مسکرا دو
مگر تم تو لمحے کی مہمان ٹھہریں
ذرا سی جھلک دے کے گم ہو گئیں تم
میں تھک کر یہ سوچا کہ اب خواب دیکھوں نہ تم کو
کہ شاید حقیقت میں تم سے ملاقات ہو جائے
مگر نیند آتی ہے تو خواب لے کر
وہی ایک چہرہ، وہی ایک صورت
وہی بے خبر سی ملاقات لمحہ
وہی جاگنے پر اداسی کا عالم
وہی ڈھونڈنا تم کو بستر کی سلوٹوں میں
وہی بے بسی، وہی خواہش کا ماتم
میں تھگ سا گیا ہوں، یہ کیا کھیل ہے تم نے
کبھی خواب میں، کبھی سوچ میں مسکرا کر
مجھے باندھ رکھا ہے اک ڈور سے تم نے
نہ چھوٹے، نہ ٹوٹے، نہ میں پا سکوں تم کو
یہ الجھن، یہ حسرت، یہ بے چین لمحے
یہ سب کچھ ہے تم سے، مگر تم کہاں ہو
کبھی سوچتا ہوں کہ یہ خواب کی صورت
تمہاری ہی کوئی حقیقت تو ہوگی
کہیں تم بھی چپکے سے دیکھو گی مجھ کو
کسی رات جب چاند بادل میں ڈوبے
کسی شام جب بوند ٹپکے تو جاگوں
کسی صبح جب دھوپ چھو کر گزر جائے
وہیں تم کھڑی ہو، وہی مسکراہٹ
وہی نرم لہجہ، وہی نازکی سی
مگر یہ بھی اک خواب ہے، جاگتا ہوں
تو پاتا ہوں تنہائی، خاموشیاں ہیں
ہوا بھی نہیں، روشنی بھی نہیں ہے
بس اک درد ہے جو دھڑکتا ہے سینے
کہ تم کو حقیقت میں دیکھا نہیں ہے
میں تھگ سا گیا ہوں، مگر سن لو جاناں
یہ تھکنا، یہ ہارا ہوا دل نہیں ہے
ابھی اور دیکھوں گا میں تم کو خوابوں
ابھی اور مانگوں گا رب سے دعائیں
کہ اک دن ایسا بھی آئے، ضرور آئے
کہ جب نیند کھل جائے، تم سامنے ہو
مری آنکھ میں، میرے کمرے میں، میرے
بہت پاس، اتنی کہ بس ہاتھ بڑھاؤں
تو تم کو چھو لوں، یقین آئے تم پر
کہ تم ہو، تمہی ہو، نہیں کوئی دھوکہ
نہیں کوئی دھندلا سا عکسِ خیال
حقیقت ہو تم، اور حقیقت میں دیکھوں
تمہیں دیر تک، عمر بھر، بے زوال
مگر جب تلک وہ گھڑی آئے، جاناں
میں تھگتا رہوں گا، یہی میری قسمت
تمہیں خواب میں دیکھ کر تھگتا رہوں گا
تمہیں ڈھونڈتا پھر رہوں گا حقیقت