
تم ۔۔ ہی ۔۔ کافی ۔۔ ہو ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
تم ہی کافی ہو
جب تم ہنس دو تو لگے دن نے لباس اور پہنا
میرے سنسان سے گھر نے نئی رونق اوڑھی
میں نے چاہا بھی نہیں تھا کہ بدل جاؤں مگر
تم ملے تو مرا ہر رنگ تمہارا نکلا
تم سے مل کر یہ سمجھ آیا، سکون کیا ہوتا ہے
ایک انسان بھی پوری کائنات ہوتا ہے
لوگ رشتوں کو نبھاتے ہیں ضرورت کی طرح
میں نے چاہا ہے تمہیں اپنی طبیعت کی طرح
تم اگر دیر سے آؤ تو گلہ بھی نہ کروں
بس تمہیں دیکھ کے چہرہ مرا کھل جاتا ہے
میری عادت میں نہیں شور مچانا لیکن
تم دکھائی دو تو ہر منظر نیا لگتا ہے
میں نے دنیا کی چمک دیکھ کے یہ جان لیا
کوئی بھی چیز ترے ہونے سے بڑھ کر نہ لگی
میری ہر جیت کا مطلب بھی تمہی سے نکلا
میری ہر مسکاں کا چہرہ بھی تمہی سے نکلا
آؤ ایسا کریں...
ہم نہ وعدے کریں، نہ قسمیں کھائیں
بس ایک دوسرے کی مسکراہٹ کا سبب بن جائیں
اور یہی عمر بھر کی سب سے بڑی دولت ٹھہرے
جب کبھی لوگ مری خوشیوں کا پتہ پوچھیں گے
میں تمہاری ہی طرف ہنس کے اشارہ کر دوں
جو بھی باقی ہے مری عمر کی روشن ساعت
میں بغیر سوچے تمہارے ہی حوالے کر دوں
بس اک بار مجھے اپنی بانہوں میں سمیٹ لینا
میرے اندر کی ساری دنیا کو محسوس کرنا
پھر نہ میں کچھ کہوں گا، نہ تم کچھ کہنا...
میری بےآواز کیفیت کو اپنے سینے میں اترنے دینا
تب تم خود ہی جان جاؤ گی...
تم میری محبت نہیں...
تم میری زندگی ہو...
تم ہی کافی ہو