
حزن.. جميل. شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
حزنِ جمیل
حزن نے آ کے مرے دل کو سنوارا ہے
غم نے ہی زندگی کو ایک نظارا ہے
خامشی میں بھی کوئی ساز بجا کرتا ہے
میرے سینے میں یہ کیسا سا اشارا ہے
میں نے آنکھوں کی نمی کو بھی ہنر جانا ہے
اشک کا رقص بھی اک خاص کنارا ہے
رات کی گود میں بیٹھا تو یہ محسوس ہوا
ہر اداسی میں کہیں نور کا مارا ہے
دل شکستہ سہی، لیکن یہ شکستہ بھی نہیں
یہ تو غمگین چراغوں کا ستارہ ہے
میں نے رنج کو گلے سے یوں لگا رکھا ہے
جیسے یہ زخم بھی تقدیر کا پیارا ہے
ہجر کی دھوپ میں جو سایہ نصیب آیا مجھے
وہ بھی تنہائی کے صحرا میں نظارہ ہے
Chorus
غم نے جو دل کو سنوارا، وہی میرا ساز ہے
آہ میں بھی عشق باقی، دل میں اب تک راز ہے
حزن میرا ہم سفر ہے، درد میرا ساز ہے
اس اندھیرے میں چھپا اک نور کا انداز ہے
غم اگر حسن نہ ہو تو وہ کہاں دل میں اترے
میرے اندر تو اداسی بھی سہارا ہے
میں نے ہر درد کو ماتھے کا دُعا نام دیا
اور یہی درد مرے باطن کا اشارا ہے
آہ نے نغمہ بنایا تو عجب رنگ کھلا
ورنہ خاموشی ہی اس دل کا کنارا ہے
میں تو بس خاکِ درِ یار کا ایک ذرّہ ہوں
پھر بھی غم نے مجھے اک خاص ستارہ ہے
یہ حزن بھی میری پہچان، یہی میری طلب
اس اندھیرے میں چھپا نور ہمارا ہے
جو نہیں بول سکا، اس نے بہت کچھ کہا
میرے سکوت میں بھی عشق کا نعرہ ہے
اور میں اس حزن کے سجدے میں پڑا رہتا ہوں
کیونکہ غم میں بھی وصالِ یار کا چارہ ہے
Chorus
غم نے جو دل کو سنوارا، وہی میرا ساز ہے
آہ میں بھی عشق باقی، دل میں اب تک راز ہے
حزن میرا ہم سفر ہے، درد میرا ساز ہے
اس اندھیرے میں چھپا اک نور کا انداز ہے