
کسے کے خاطر ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
مجھے کسی کی خاطر نہ توڑ
مجھے کسی کی خاطر نہ توڑ
اگر محبت نہیں تو کہہ دو
میں لوٹ جاؤں گا
اپنے ٹوٹے ہوئے مزار پر
جہاں صرف خاموشی اور سناٹا ہے
وہیں پہ کبھی اک شمع تھی، اک روشنی کا دھوکا
مگر اب وہاں رات کی سلطنت ہے
نہ کوئی پکار، نہ کوئی دستک
نہ کوئی آنکھ جو راہ دیکھے
میں نے تمہیں چاہا تھا
جیسے صحرا بادل کو چاہتا ہے
پر تم تو سمندر تھے
جسے صحرا کی پیاس سے کیا لینا
اب تم کہتے ہو کہ لوٹ آؤ
مگر میں وہ بارش نہیں
جو ہر آواز پر برس جائے
میں تو وہ بادل ہوں
جو برس کر ختم ہو گیا
تمہارے شہر کی گلیوں میں
اب بھی میری خوشبو ہے
مگر میں نہیں ہوں
تمہارے لفظوں میں
اب بھی میرا ذکر ہے
مگر میں نہیں ہوں
میں تو اس مزار کا مقیم ہوں
جہاں محبت دفن ہے
جہاں امید کی آخری کرن
خاموشی میں گم ہے
تم کہتی ہو کہ لوٹ آؤ
مگر کس کے پاس لوٹ آؤں؟
تم تو وہی ہو
اب میں صرف ایک سایہ ہوں
اک ٹوٹی ہوئی قبر کا پتھر
جس پر نام بھی مٹ چکے ہیں
اور نشان بھی
تمہاری محبت کا جنون
کبھی میری روح کی خوراک تھا
اب وہی جنون
میرے سکون کا قاتل ہے
میں نے تم سے محبت کی تھی
مگر اب خود سے بھی محبت نہیں
تمہیں پانے کی خواہش تھی
مگر اب جینے کی بھی خواہش نہیں
تو لوٹ جاؤ اپنی دنیا میں
جہاں روشنی ہے، رونق ہے
میرا ٹھکانہ تو اب وہی ہے
جہاں صرف خاموشی اور سناٹا ہے
وہیں میرا دل دھڑکتا ہے
مگر دھڑکنوں کی آواز نہیں
وہیں میری آنکھیں کھلی ہیں
مگر خوابوں کا کوئی احساس نہیں
میں نے اپنے آپ کو دفن کر دیا
اسی ٹوٹے ہوئے مزار میں
جہاں نہ کوئی تمنا باقی ہے
نہ کوئی آس باقی ہے
بس خاموشی ہے
اور سناٹا ہے
اور میں ہوں
اپنی ہی عدم موجودگی کا پاسبان
تم مت آنا اس طرف کبھی
یہ راستے تمہارے لیے نہیں
یہاں صرف وہ آتے ہیں
جو مر چکے ہوں
اور میں مر چکا ہوں
تمہاری محبت کے ہاتھوں
مر چکا ہوں
اب نہ جی اٹھوں گا
کسی اور آواز پر
بس خاموشی ہے
اور سناٹا ہے
اور میں ہوں
اپنی قبر کا مجاور