
حرف مقدر ہے ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
حرف ۔۔مقدر۔۔ ہے
```
یہ داستانِ دل نہیں، یہ حرفِ مقدر ہے
جو آہستہ آہستہ، سانسوں میں اترتا ہے
شہر کے شور میں جب تمہارا گزر ہوا
لگتا تھا وقت نے اپنے قدم سمیٹ لیے
نہ تم نے کچھ کہا، نہ میں نے کچھ سنا
مگر ایک دل تھا جو اندر ہی اندر بیدار ہوا
تمہاری پیشانی پہ شام کا اجالا تھا
آنکھوں میں کسی دور دراز دیس کا حوالہ تھا
میں نے تمہیں دیکھا تو یوں لگا
جیسے خاموشی نے پہلی بار آواز پائی ہو
تمہارے لہجے میں چاندنی کی لَو تھی
اور ہنسی میں کسی بھولی ہوئی دعا کی خوشبو تھی
میں نے اپنے دل کے دروازے بند رکھے تھے
مگر تم آئے تو ہوا نے انہیں کھول دیا
یہ عشق تھا، جو نام بننے سے پہلے وجود میں تھا
یہ لمس تھا، جو ہاتھوں سے پہلے دل میں تھا
تم آئے تو بکھرے ہوئے رنگ سنور گئے
اور میرے اندر کے ویران موسم ٹھہر گئے
یہ عشق تھا، جو لفظوں سے بلند تھا
جو آنکھوں کے اشاروں میں بھی مستند تھا
میں نے تمہیں چاہا تو اس طرح چاہا
جیسے دعا کو یقین، اور خاموشی کو صدا ملا
پھر ہر ملاقات میں ایک نئی معنی گری
ہر جملے کے پیچھے ایک پوری عمر چھپی
تمہارے قدموں کی آہٹ سے راہوں نے رنگ بدلا
اور میرے اندر کے خزاں زار میں گل کھلا
میں نے تمہیں صرف حسن کے طور پر نہ دیکھا
تم میرے دل کے سب سے گہرے سوال کا جواب تھے
تمہاری خاموشی میں جو وقار تھا
وہی میرے ٹوٹے ہوئے لہجوں کا اعتبار تھا
کبھی تم دور ہوتے تو شام اداس لگتی
اور کبھی قریب آتے تو فضا خاص لگتی
میں نے سانسوں کو بھی تمہاری سمت موڑا
جیسے دریا سمندر کی طرف لوٹا
پھر ایک دن فاصلہ بھی آداب سکھا گیا
اور جدائی نے محبت کا حساب سکھا دیا
میں نے سمجھا کہ ملنا ہی سب کچھ نہیں
کبھی کسی کا رہ جانا بھی ایک فن ہے
تم گئے تو وقت کے ماتھے پہ شکن اتر آئی
اور میری راتوں میں ستاروں کی کمی رہ گئی
میں نے تمہیں یاد نہیں کیا — تم یاد رہے
جیسے مٹی میں نمی، جیسے لفظ میں معنی رہے
اب بھی جب ہوا در سے آہستہ گزرتی ہے
تمہاری موجودگی کی خوشبو ٹھہر جاتی ہے
میں نے تمہیں کھو کر بھی کم نہ پایا
کیونکہ کچھ لوگ جدا ہو کر بھی پورے رہتے ہیں
اگر کبھی لوٹ آؤ، تو میں وہی در ہوں
جس پر تمہاری پہلی نظر کا اثر ٹھہرا تھا
اور اگر نہ بھی آؤ، تب بھی یہ سچ رہے
کہ میرے دل کی سلطنت میں تمہارا نام رہے
یہ عشق تھا، جو نام بننے سے پہلے وجود میں تھا
یہ لمس تھا، جو ہاتھوں سے پہلے دل میں تھا
تم آئے تو بکھرے ہوئے رنگ سنور گئے
اور میرے اندر کے ویران موسم ٹھہر گئے
یہ عشق تھا، جو لفظوں سے بلند تھا
جو آنکھوں کے اشاروں میں بھی مستند تھا
میں نے تمہیں چاہا تو اس طرح چاہا
جیسے دعا کو یقین، اور خاموشی کو صدا ملا
یہ داستانِ دل نہیں، یہ حرفِ مقدر ہے
جو آہستہ آہستہ، سانسوں میں اترتا ہے
اور تم...
اسی مقدر کا سب سے روشن حوالہ ہو
```