پردہ ۔۔ ہجراں ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔ cover art

پردہ ۔۔ ہجراں ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 7:59 · 6 plays · 1 likes

Lyrics

پردۂ ہجراں

اے جاناں، شبِ ہجراں سے یوں غمگیں نہ ہو، دلربا
ہاتھ دل پر رکھ کے دیکھ، میں نہیں تجھ سے جدا
یہ جو پردۂ وقت ہے، اس کو فراقِ جاں نہ سمجھ
چند ساعت کی جدائی ہے، اسے ہجرِ نہاں نہ سمجھ

میں ترے دل کا آشنا ہوں، تو مری جانِ وفا
دور رہ کر بھی ترے دل سے نہیں ہوتا جدا
تیری آواز جو آئے، روح میں اک نور اترے
تیرا فرمان جو مل جائے، مرا سر خود بخود جھکے

تیری ناز و نیاز پر ہے مرا دل بےقرار
تیری اک نگاہ کے صدقے، یہ دلِ امیدوار
تو دلربا، میں ترا شیدا، یہی رازِ محبت ہے
تیری چاہت میری دنیا، تیری الفت میری دولت ہے

گر شبِ ہجراں طویل ہو، تو فریاد نہ کر
اپنی آنکھوں کے ان آنسوؤں کو یوں برباد نہ کر
ایک آہِ دل جو نکلے، میرے سینے تک آتی ہے
تیری ہر درد بھری صدا، مری دھڑکن بن جاتی ہے

نہ جفا کا کوئی شکوہ، نہ گلہ تیرے نام
میری وفا میں فقط تو ہے، تو ہی میرا مقام
بےخودی میں بھی ترا ذکر مری جاں میں رہے
ہوش آئے تو بھی تیرا ہی تصور دل میں رہے

تو اگر نام مرا لے، کوئی آہِ سحر بن کر
میرا دل دوڑ کے آئے، تری آواز کا اثر بن کر
یہ مسافت کیا کرے گی، عشق جب زندہ رہے
فاصلہ لاکھ ہو لیکن دل ترے پہلو میں رہے

میں ترے دیدار کی خاطر یہ سفر کاٹ رہا ہوں
تیری اک جلوۂ رخسار کے لیے جیتا ہوں
ہر قدم پر ترے وصال کی امید لیے
ہر گھڑی تیری محبت کا چراغ لیے

اے ساقیِ عشق، مجھے جامِ تسلی دے ذرا
تیری یادوں کے سوا دل کو نہیں کوئی دوا
تو نہ سمجھے کہ مسافت نے مجھے بھلا ڈالا
عشق نے دل میں ترا نام ہمیشہ سنبھالا

وقت کے ہاتھ میں کیا ہے، وہ فقط چلتا ہے
عشق تو دل میں ازل سے تری جانب پلتا ہے
یہ جو پردہ ہے زمانے کا، فقط ایک فاصلہ
دل تو تیرے ہی تصرف میں ہے، اے جانِ وفا

ایک دن آئے گا، یہ ہجر کا موسم ڈھل جائے
فراق کی ساری گھٹائیں بھی ہوا میں مل جائے
پھر نہ ساعت کی قید ہوگی، نہ مسافت کا گماں
سامنے ہوگا ترا چہرہ، مرا دل، میرا جہاں

پھر ترے دیدار سے روشن ہو مری شامِ حیات
پھر ترے قرب میں گم ہو مری ہجران کی رات
جس گھڑی ہاتھ ترا میرے ہاتھوں میں آئے
ہر فریادِ دلِ خستہ کو سکون آ جائے

تب سمجھ جائے گی جاناں، مرے دل کا یہ راز
میں ترے عشق میں بےخودی، تو مری روح کا ساز
میں تھا تیرا، میں ہوں تیرا، یہی اقرارِ وفا
نہ جفا مجھ سے ہوئی، نہ تجھ سے کوئی گلہ

سو نہ رو، اے مری دلربا، شبِ ہجراں سے نہ ڈر
جس نے چاہا ہے تجھے، وہ نہ بدلے گا عمر بھر
گر یہ دوری ہے فقط وقت کی پردہ نشیں بات
تو یقیں رکھ، تری جانب ہی ہے میری ہر ایک رات

میں ترے ساتھ ہوں آواز میں، خاموشی میں بھی
تو مری جان ہے ہر سانس کی سرگوشی میں بھی
گر یہ شب لمبی ہوئی، صبحِ وصال آئے گی
تیری آغوشِ محبت میں مری جان آئے گی

بس یقیں رکھ، مرے جاناں، یہ فراق آخر نہیں
دل سے دل دور ہو جائے، یہ کبھی ممکن نہیں
ہجر کے بعد وصال آئے، یہی رسمِ عشق ہے
تو مری جانِ وفا ہے، تو ہی میرا عشق ہے۔

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI