
شام نواب شاہ ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
وہ شامِ نواب شاہ اب بھی مجھے بلاتی ہے
تیری ہنسی ہواؤں میں آج بھی مسکراتی ہے
تو ساتھ نہیں، مگر ہر سمت تیرا ہی نقش ہے
میری ہر دعا میں بس تیری ہی ایک باتی ہے
---
وہ نرم نرم ہوا کا تیرے گیسوؤں سے کھیلنا
وہ خامشی میں دھیرے سے میرا تیرا بولنا
وہ تیرے ہاتھ کی خوشبو، وہ ریشمی سا لمس
ہر اک لمحہ محبت کا ستاروں میں ڈھلنا
تیرے سنہرے بالوں پہ سورج اتر آیا تھا
تیری ایک مسکراہٹ نے دل کو سنورایا تھا
نواب شاہ کی گلیاں بھی گنگنانے لگیں
جب تو نے میرا ہاتھ محبت سے تھام لیا تھا
---
وہ شامِ نواب شاہ اب بھی مجھے بلاتی ہے
تیری ہنسی ہواؤں میں آج بھی مسکراتی ہے
تو ساتھ نہیں، مگر ہر سمت تیرا ہی نقش ہے
میری ہر دعا میں بس تیری ہی ایک باتی ہے
---
اب انہی راستوں پہ اکیلا سفر کروں
ہر موڑ پر تری یاد کا انتظار کروں
ہوا بھی پوچھتی ہے کہاں ہے وہ ہمسفر
جسے میں اپنی ہر دعا کا اعتبار کروں
تیری آنکھوں کی نمی اب بھی چراغِ دل ہے
تیری آواز مری روح کی پہلی غزل ہے
وقت بدلا، شہر بدلا، سب بدلتا ہی گیا
میری دنیا میں مگر تیرا ہی موسم ازل ہے
---
اگر کبھی تری راہوں سے میرا نام گزرے
ذرا ٹھہر کے انہی یادوں کو سلام کہنا
کہ ایک شخص آج بھی اسی موڑ پر کھڑا ہے
جہاں تو نے کہا تھا
"ہم کبھی جدا نہیں ہوں گے..."
---
وہ شامِ نواب شاہ دل سے کبھی نہ جائے گی
تیری محبت میری روح میں ہمیشہ گنگنائے گی
اگر نصیب میں پھر اک ملاقات لکھ دی گئی
تو زندگی پھر سے محبت کا گیت گائے گی
تو جہاں بھی ہو، خوش رہ، یہی میری دعا ہے
میرا ہر شعر، ہر نغمہ بس تیرا سلسلہ ہے
نواب شاہ کی شامیں جب بھی اترتی ہیں
میرا دل صرف تیرا نام ہی گاتا ہے...