
خاموش ۔۔ غمِ ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
:
آہِ سحر...
نقشِ قدم...
اور دل کے آنگن میں خاموشیِ غم...
دھمک دھمک، دل کی گلیوں میں
چمک چمک، یادوں کی کلیوں میں
آہستہ آہستہ، زخم کھلتے ہیں
خاموشی کے بھی رنگ بدلتے ہیں
وہ جو مرے سامنے گلِ ناز تھا
میرے لیے گویا تاج و تخت و ساز تھا
آج اسی کے بغیر یہ عالم ہے
جیسے چراغوں میں بھی اندھیرا ضم ہے
میں نے وفا کو اپنی زینت کیا
درد کو بھی دل کی حقیقت کیا
پر جو ملا مجھے اس کے عوض
وہ فقط ہجر تھا، وہ بھی بے حد عجوب
اس کی نگاہوں میں اک جہاں تھا کبھی
میرے لبوں پر اک کہکشاں تھا کبھی
اب نہ وہ منظر، نہ وہ پہچان ہے
صرف مرے دل میں اک کہرام ہے
ہائے ہجر، ہائے فراق
ٹوٹ گیا دل کا روشن چراغ
جس پہ نازاں تھا دلِ بے قرار
وہی ہوا میری روح کا فگار
شامِ غم میں بھی وہی سایہ رہا
دل کے ویرانے میں اک دریا رہا
میں نے ہر آہ کو مہرِ وفا کیا
ہر شکستہ دل کو بھی آشنا کیا
پر نہ وہ لوٹا، نہ خبر آئی
میرے حصے میں فقط شب آئی
میں نے صحنِ دل کو سجایا بہت
اس کی یادوں سے گھر کو بسایا بہت
اب تو دیواریں بھی مجھ سے پوچھتی ہیں
کس کی خوشبو تھی جو یہاں رہتی تھیں
میں جواباً فقط خامشی دیتا ہوں
اپنے زخموں کی نغمگی دیتا ہوں
ہائے ہجر، ہائے فراق
ٹوٹ گیا دل کا روشن چراغ
جس پہ نازاں تھا دلِ بے قرار
وہی ہوا میری روح کا فگار
دل کی محفل میں اب کون آئے گا
کون اس ٹوٹے دل کو سنبھالے گا
میں نے چاہا تھا جسے جان بنا کر
اس نے چھوڑا مجھے فسانہ بنا کر
وقت بھی اب تو تماشائی ہے
ہر گھڑی درد کی پرچھائی ہے
میں نے صدقِ دل سے پکارا بہت
اپنے زخموں کو بھی سنوارا بہت
ہائے ہجر، ہائے فراق
ٹوٹ گیا دل کا روشن چراغ
جس پہ نازاں تھا دلِ بے قرار
وہی ہوا میری روح کا فگار
آہِ سحر...
نقشِ قدم...
اور دل کے آنگن میں خاموشیِ غم...