شہر انتظار شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔ cover art

شہر انتظار شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 7:08 · 6 plays

Lyrics

شہرِ انتظار

اے جانِ جاں، اے دل کے چراغ، اے نورِ بقا
تیرے بغیر یہ شہر ہے جیسے بے صدا کہکشاں
سڑکیں خاموش، چراغوں میں اداسی کی تھکن
لوگ چلتے ہیں مگر لگتا ہے رُک سی گئی ہے جاں

میں نے اس شہر کی گلیوں میں تجھ کو ڈھونڈا بہت
ہر چہرے میں تری صورت، ہر صدا میں تو ہی تو
کچھ دکانوں پر کتابوں کی مہک نے یاد دلائی
کچھ ہوا کے نرم جھونکوں میں تیرا عطر گھل گیا ہو

یہ جو بازار کی رونق ہے، یہ جو رستوں کی چہل
ان میں بھی کوئی کمی ہے، جب سے تو دُوری میں ہے
میں نے ہر موڑ پہ سوچا، شاید آ جائے تو تُو
پر ہر اک موڑ پہ بس انتظار کی چھاؤں رہی ہے

میرے ہاتھوں میں قلم ہے، دل میں الجھی ہوئی بات
چند لفظوں کی مسافت، اور ہزاروں کا غبار
میں لکھوں تو تیری یادیں، میں پڑھوں تو تیرا نام
میرے کاغذ پہ ترا عکس، میرے لفظوں میں بہار

کیا ہے وہ بات جو مجھ کو تجھ سے یوں دور رکھے؟
کون سی مجبوری ہے جو دل کو بے نُور رکھے؟
میں تو اب بھی وہی ہوں، تیرا سائل، تیرا متوالا
پھر یہ خاموشی کیوں ہے، جو شہر کو مسرور رکھے؟

اس شہر میں کہیں بچہ ہنستا ہے، کہیں بوڑھا دعا
کہیں عورت کی نظر میں گھر کا سارا درد سما
کہیں مزدور کے ہاتھوں میں ابھی تک دن کی تھکن
کہیں شاموں کی سڑک پر تنہائی کا ہے سفر

اور میں…
میں انہی لوگوں میں اپنا دل لیے پھرتا ہوں
ایک چھوٹی سی امید، ایک بڑی سی بے کسی
دل میں شوق، روح میں تیرا ہی نام
اور نگاہوں میں وہی پرانی سی روشنی

میں نے بازار سے عطر لیا، تیری خوشبو کے لیے
میں نے پھولوں سے سوال کیا، تیری رنگت کے لیے
میں نے کتابوں میں ڈھونڈا وہ فقرہ، وہ دعا
جس میں لکھا ہو کہ لوٹ آ، کہ سنور جائے فضا

دل بھی ہے، روح بھی ہے، فکر بھی، قلم بھی ہے
شہر کی بھیڑ میں لیکن ترا غم کم بھی ہے
پھر بھی یہ کیسا خلا ہے جو بھرتا ہی نہیں
اور یہ کیسا سفر ہے جو ختم ہوتا ہی نہیں

میں نے دیواروں سے پوچھا، تم نے اس کو دیکھا؟
میں نے دریچوں سے کہا، کیا ہوا ہے اُس کا پتہ؟
ہوا بولی: وہ تو دل کے بہت اندر رہتی ہے
روشنی بولی: وہ تو یاد کے پنجرے میں بستی ہے

اے محبت کے مسافر، اے سکوتِ روزگار
میں نے تجھ میں زندگی دیکھی، میں نے تجھ میں انتظار
تو جو نہ ہو، تو شہر سارا بھی اُجڑا سا لگے
اور تو ہو، تو خاک میں بھی مہک اٹھے بہار

میں نے تیرا نام لکھا ہے چائے کے دھوئیں پہ
میں نے تیرا عکس دیکھا ہے ہر اک آئینے میں
میں نے تیری باتوں کو رکھا ہے کتابوں میں
اور تیری خوشبو بسائی ہے ہوا کے سینے میں

یہ جو سڑکیں ہیں، یہ جو لوگ ہیں، یہ جو لمحے ہیں
ان سبھی میں تری کمی کا ہی چرچا ہے ابھی
میں تو بس ایک دل ہوں، ایک روح، ایک قلم
جو لکھے جا رہا ہے تیری چاہت کی کہانی

پس اگر تو لوٹ آئے، تو یہ شہر بھی نیا ہو جائے
گلیاں مسکرا اٹھیں، چراغوں میں ضیا ہو جائے
لوگوں کے چہروں پہ اتر آئے سکون کا رنگ
اور میرے دل کی کتابوں میں پھر سے بہار ہو جائے

آ بھی جا، کہ شہر تیرا منتظر ہے
آ بھی جا، کہ دل بھی تیرا منتظر ہے
آ بھی جا، کہ عطر، قلم، کتاب، اور یہ ہجوم
سب تیرے نام کے بغیر آدھا سا سفر ہے

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI