
دل سے کہا ۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
دل سے کہا
دل سے کہا، آ دو قدم آگے چلیں،
زندگی کو پھر سے جینے کی دعا لے چلیں۔
محبت کی خوشبو، روشنی کی راہ،
شاید کہیں مل جائے دل کو پناہ۔
دل نے کہا:
ٹھہر جا...
یہ راستہ آسان نہیں،
ہر قدم پہ درد ہے،
ہر خواب مہربان نہیں۔
دل بتا، اب جائیں کہاں؟
ہر طرف خاموشیاں ہیں، ہر طرف دھواں۔
چلتے چلتے تھک گئے ہیں راستے،
پھر بھی دل کہتا ہے...
ہوگا کہیں اک آسماں۔
میں نے کہا،
چلو پلٹ کر کل کو ڈھونڈیں،
شاید کوئی یاد ابھی باقی ہو۔
دل نے کہا:
جو بچھڑ گیا،
وہ لوٹ کر کبھی آتا نہیں،
وقت کے زخموں کو
کوئی مٹا پاتا نہیں۔
پھر میں نے پوچھا،
راہِ وفا آخر کہاں ہے؟
یہ سفر کب ختم ہوگا؟
دل نے کہا:
خاموش رہ،
کبھی کبھی انتظار ہی
انسان کی تقدیر ہوتا ہے۔
دل بتا، اب جائیں کہاں؟
ہر طرف خاموشیاں ہیں، ہر طرف دھواں۔
چلتے چلتے تھک گئے ہیں راستے،
پھر بھی دل کہتا ہے...
ہوگا کہیں اک آسماں۔
اے دل،
اگر امید بجھ بھی جائے،
دعا کو مرنے نہ دینا۔
رات جتنی بھی سیاہ ہو،
صبح پر یقین رکھنا۔
شاید اسی خاموشی میں
کوئی نغمہ جنم لے۔
شاید اسی اندھیرے میں
اک نیا سورج نکلے۔
اگر محبت روٹھ گئی،
تو صبر کو اپنا لینا۔
اور اگر امید مر جائے،
تو دل میں پھر بھی
ایک نئی امید جگا لینا۔