آئینہ کی آندر ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

آئینہ کی آندر ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 4:03 · 6 plays

Lyrics

آئینے کے اندر

رات کے آئینے نے میرا تھکا ہوا چہرہ چھپا لیا
اور آنکھوں میں بچا آخری سا شک بھی بجھا لیا

میں اس میں داخل ہوا تو خامشی نے در کھول دیا
اور ہر ایک ٹوٹنے میں کوئی عاشق بول دیا

میں نے اپنی عمر کو شیشے پر بکھرتے دیکھا
جیسے میرے قدموں نے کھویا ہوا راستہ دیکھا

اور اس کی گہرائی میں میری بچپن کی صورت
بادلوں کی روشنی گنتی ہوئی، ہنستی ہوئی معصوم صورت

میں نے ماں کو ایک پرچھائیں میں گزرتے دیکھا
شام کی دعا کی طرح، خاموشی میں اترتے دیکھا

اور میرا دل کھڑکی کے پاس بیٹھا رہا
کسی ایسے چہرے کا انتظار کرتا رہا
جو آیا نہیں… مگر کبھی گیا بھی نہیں

پھر تمہاری صورت گزری
تو شیشہ لرز گیا
جیسے آسمان نے اپنا نام سنا ہو
جیسے اندر کا سارا نور
تمہارے لیے پھر سے سنوارا گیا ہو

آئینے کے اندر، میں خود کو ڈھونڈتا رہا
بکھرے ہوئے لمحوں کو، پھر سے جوڑتا رہا
جو چہرہ وقت نے مجھ سے چھپا لیا تھا کبھی
وہی چہرہ تیری یاد میں، روشن ہوتا رہا

آئینے کے اندر میں نے جانا
کہ چیزیں جیسی دکھائی دیتی ہیں
ویسی نہیں ہوتیں
بلکہ ویسی ہوتی ہیں
جیسی وہ ہمیں اپنے بعد چھوڑ جاتی ہیں

آدھا وجود… آدھی آگ
اور ایک سفر جو خود سے خود تک جاتا رہا

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI