
مقتول ۔۔۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
میں ہی قاتل، میں ہی مقتول ہوں
میں ہی قاتل، میں ہی مقتول ہوں
اپنے ہی دل کا سب سے بڑا اصول ہوں
میں ہی قاتل، میں ہی مقتول ہوں
اپنی ہی خاموشی کا ایک سوال ہوں
میرے دل نے خود اپنا قتل کیا ہے
اسے اپنی موت کی سزا بہت ہے
یہ وہ جرم ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
یہ وہ زخم ہے جس کا کوئی گواہ نہیں
میں نے اپنی ہی نبض کو کاٹا
اپنی ہی روح کو سولی پہ چڑھایا
اور پھر خاموشی سے
اپنی ہی لاش کو کندھا دیا
میرے دل نے خود اپنا قتل کیا ہے
اسے اپنی موت کی سزا بہت ہے
میرے قاتل کو سلام
کہ اس نے بغیر چھری کے
میرے سینے میں سوراخ کیا
بغیر زہر کے
میری سانسوں کو جلایا
بغیر آگ کے
میرے خوابوں کی چتا سجائی
میں ہی قاتل، میں ہی مقتول ہوں
اپنی ہی درد بھری داستان کا حصول ہوں
یہ کیسی وحشت تھی
جو محبت کے لبادے میں آئی
یہ کیسی تنہائی تھی
جو ہجوم میں بھی ساتھ رہی
میں نے اپنے آپ کو ڈھونڈا
تو اپنا ہی پتہ گم پایا
میں نے اپنے آپ کو پکارا
تو اپنی ہی آواز سے ڈر گیا
میرے قاتل کو دعا
کہ اس نے مجھے زندہ رہنے کا
وہ ہنر سکھایا
جو مرنے کے بعد بھی کام آتا ہے
اس نے مجھے بتایا
کہ زخم کیسے چھپائے جاتے ہیں
درد کو مسکراہٹ میں کیسے سجایا جاتا ہے
میرے دل نے خود اپنا قتل کیا ہے
اسے اپنی موت کی سزا بہت ہے
میں اپنی ہی قبر پہ کھڑا ہوں
اور اپنے ہی جنازے کو دیکھ رہا ہوں
لوگ آئے ہیں
کندھے بدل رہے ہیں
کوئی رو رہا ہے
کوئی حیران ہے
کوئی کہہ رہا ہے
یہ تو زندہ تھا کل رات تک
کسی کو خبر نہ ہوئی
کہ میں مر چکا تھا برسوں پہلے
میرے قاتل کو مبارک
کہ اس نے مجھے
میرے ہی خلاف گواہی دینا سکھایا
میں نے اپنی ہی ذات کو
مجرم ثابت کیا
اور اپنے ہی ہاتھوں
اپنی سزا کو لکھا
میرے دل نے خود اپنا قتل کیا ہے
اسے اپنی موت کی سزا بہت ہے
یہ جو رشتے تھے
یہ سب میرے اپنے تھے
میں نے انہیں اپنے لہو سے سینچا
انہوں نے مجھے ویران کیا
میں نے انہیں اپنی آنکھوں میں بسایا
انہوں نے مجھے بے آب کیا
میں نے انہیں اپنی روح کا لباس پہنایا
انہوں نے مجھے ننگا کیا
پھر بھی میں نے انہیں معاف کیا
کیونکہ قاتل تو میں خود تھا
میرے قاتل کو سلام
کہ اس نے مجھے
اپنی ہی نظر میں گرانا سکھایا
میں نے اپنے آپ کو
اتنا حقیر جانا
کہ آئینے نے بھی مجھے
پہچاننے سے انکار کیا
میرے دل نے خود اپنا قتل کیا ہے
اسے اپنی موت کی سزا بہت ہے
اب میں اپنی ہی تلاش میں ہوں
اور میں اپنی ہی راکھ میں چھپا ہوں
میرے وجود کا ہر ذرہ
میرے ہی خلاف گواہی دے رہا ہے
میں اپنا قاضی ہوں
میں اپنا مجرم ہوں
میں اپنی ہی عدالت میں
اپنے آپ کو سزا سنا رہا ہوں
میرے قاتل کو مبارک
کہ اس نے مجھے
اپنی ہی ذات سے نفرت کا
وہ ہنر سکھایا
جو محبت کے ہر دعوے کو
جھوٹا ثابت کرتا ہے
یہ آخری الفاظ ہیں
میرے اپنے لیے
میرے قاتل کے لیے
جو میں ہی ہوں
میں نے خود کو مارا
میں نے خود کو دفنایا
میں نے خود کو بھلایا
اور اب میں اپنی ہی قبر پہ
کھڑا رو رہا ہوں
میرے دل نے خود اپنا قتل کیا ہے
اسے اپنی موت کی سزا بہت ہے
بہت ہے…
بہت ہے…