
تاج ۔۔۔ دل ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔
Lyrics
تاج دل ۔۔۔۔
تاجِ دل، تاجِ دل
تو ہی سلطانِ ازل
نورِ نظر، جانِ ہنر
تو ہی مرے دل کا حل
میرے خاموش قصر میں جب تیرا نام اترا
سارے اندھیروں پہ جیسے کوئی آفتاب اترا
میں نے مانا کہ ترے عشق میں رفعت ہے بہت
اور مرے دل کی ہر اک سانس میں برکت ہے بہت
تیری آہٹ نے بکھیرے ہیں اجالے مجھ میں
تیری ہجرت نے لکھے زخم کے نالے مجھ میں
تو اگر چشمِ عنایت سے اشارہ کر دے
میرے ویران مقدر کو دوبارہ کر دے
میں نے دربارِ تمنا میں فقط تجھ کو پکارا
اپنے اشکوں سے بھی لکھا ترا نام دوبارا
تیری یادوں کے چراغوں سے سجی رات مری
تیری چاہت نے بدل ڈالی ہے ہر بات مری
یہ جو دل ہے، یہ ترے حسن کا دربار سہی
یہ جو سینہ ہے، یہ الفت کا گہوارہ سہی
تو جو ہو ساتھ تو طوفان بھی سر جھکائیں
ورنہ ساحل بھی مری روح کو سُنسان بنائیں
تاجِ دل، تاجِ دل
تو ہی سلطانِ ازل
نورِ نظر، جانِ ہنر
تو ہی مرے دل کا حل
تیری آنکھوں میں وہی رازِ خداوندی ہے
تیری ہنسی میں بھی عجیب سی تابندہ سی ہے
میں نے جب تیرے لبوں کا سرِ ساز سنا
دل نے فوراً ہی وفا کا نیا آغاز سنا
آہ، کیا رتبہ ہے اس عشقِ مقدس کا یہاں
جو ہمیں خاک سے اٹھا کے کرے تاجِ جہاں
ہم نے خود کو بھی ترے در پہ نچھاور کر دیا
اور ہر ایک غم کو تیرا ہی اثر کر دیا
تاجِ دل، تاجِ دل
تو ہی سلطانِ ازل
نورِ نظر، جانِ ہنر
تو ہی مرے دل کا حل
اے مرے خوابِ جمیل، اے مرے نورِ وقار
اے مرے دل کے مکیں، اے مرے فصلِ بہار
میں نے مانگی نہ کبھی سلطنتِ زر و گہر
میں نے مانگی فقط اک جھلکِ لطفِ نظر
تو اگر پاس رہے، دل کو سکوں ملتا ہے
ورنہ ہر سانس میں اک درد سا چلتا ہے
تیری قربت ہی مرے روح کی معراج بنی
تیری الفت ہی مرے عشق کی آواز بنی
جب سے دیکھا ہے ترے چہرے پہ رحمت کا جمال
تب سے ٹوٹا نہیں دل، بن گیا شوقِ وصال
میرے لفظوں میں بھی اب تیرا ہی عنوان رہا
میرے سجدوں میں بھی ہر بار ترا دھیان رہا
تو ہی منزل، تو ہی مقصود، تو ہی آرزو
تو ہی سرورِ دعا، تو ہی دل کی جستجو
جس گھڑی تو نے پکارا مجھے اپنا سمجھا
میں نے ہر درد کو پھر اپنی طلب کا سمجھا
میرے خاموش قصر میں جب تیرا نام اترا
سارے اندھیروں پہ جیسے کوئی آفتاب اترا
اور صدا آئی فضا سے، یہی پیغامِ وفا
تو ہی سلطانِ دل، تو ہی مرادِ دل سرا
تاجِ دل، تاجِ دل
تو ہی سلطانِ ازل
نورِ نظر، جانِ ہنر
تو ہی مرے دل کا حل