جو لفظ رہ جائے۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی cover art

جو لفظ رہ جائے۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 4:58 · 1 plays · 1 likes

Lyrics

جو لفظ رہ جائیں

مجھ سے پہلے بھی
کئی شاعر آئے،
اپنے دل کی آگ
لفظوں میں سجائے۔

کچھ چلے گئے،
کچھ کے نام مٹ گئے،
مگر ان کے شعر
آج بھی دلوں میں رہ گئے۔

میں بھی ایک دن
اس راہ سے گزر جاؤں گا،
اپنی آواز
دنیا میں چھوڑ جاؤں گا۔

زندگی ٹھہرے گی نہیں،
یہ سب کو چھوڑ جاتی ہے،
مگر سچی محبت
لفظوں میں سانس لیتی ہے۔

تم جب کبھی
میرا کوئی شعر پڑھنا،
سمجھ لینا
میں تمہارے پاس ہوں۔

میری آواز نہ ہوگی،
میری آنکھیں نہ ہوں گی،
مگر میرے لفظ
تم سے باتیں کریں گے۔

جو لفظ رہ جائیں،
وہ کبھی مر نہیں جاتے،
دل سے نکلے ہوں جو،
وہ دلوں میں گھر بناتے۔

اور اگر کبھی
تمہیں میری یاد آئے،
میرے گیت کو
آہستہ سے گانا۔

شاید میری محبت
پھر دل میں اتر آئے،
شاید کوئی بھولی ہوئی
رات پھر مسکرا جائے۔

میری کتاب کھولنا،
کسی صفحے پر رک جانا،
جہاں میرا شعر ملے،
وہیں مجھے پہچاننا۔

وقت گزر جائے گا،
موسم بدل جائیں گے،
مگر میرے لکھے حرف
تمہارے ساتھ چلیں گے۔

جسم مٹی میں مل جائے،
آواز کہیں کھو جائے،
مگر سچی محبت کا
ایک لفظ رہ جائے۔

جب دنیا مجھے
یاد نہ بھی رکھے،
میری شاعری میں
تم مجھے زندہ رکھنا۔

جو لفظ رہ جائیں،
وہ کبھی مر نہیں جاتے،
دل سے نکلے ہوں جو،
وہ دلوں میں گھر بناتے۔

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI