غیاب ۔۔۔ یار ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔ cover art

غیاب ۔۔۔ یار ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی ۔۔

by عبدالمجيد خاصخيلي

AI-generated Folk song · 7:59 · 10 plays

Lyrics

غِیابِ یار

تیرے فراق نے درِ جاں ویران کر دیا
میرے وجود کے صحن کو بےسامان کر دیا
میں نے تیرا نام لیا تو آواز خاموش ہو گئی
میں نے تیری سمت دیکھا تو روح حیران ہو گئی

تو نہ رہا تو میں، اپنے ہی نام سے بیگانہ ہوا
تو نہ رہا تو میں، اپنی ہی پہچان سے ویران ہوا
تیری کمی نے مجھے، میرے اندر سے دور کیا
تو نہ رہا تو میں، اپنے ہی جہان سے بیگانہ ہوا

میں نے درِ دل پہ راتوں کو دستک دی
اپنے ہی وجود سے ملنے کی حسرت کی
مگر اندر کی دنیا میں
تیری یاد کے سوا کچھ نہ ملا

نہ ذکر میں وہ لذت رہی
نہ سانس میں وہ روشنی رہی
بس ایک خاموش صدا رہی
جو میرے نفس کے اندر
ہر لمحہ تیرا نام کہتی رہی

اے میرے یار...
آ جا...
کہ دل کی خانقاہ میں
اب بھی تیرا چراغ جلتا ہے

میں وہ شمع ہوں
جو تیری یاد کی ہوا میں جلتی رہی
میں وہ پروانہ ہوں
جو تیرے عشق کے نور پر مٹتا رہا

میں نے فنا کے راستے پر
اپنی انا کو چھوڑ دیا
تیری محبت کے در پر
اپنا ہر سوال رکھ دیا

اب نہ مجھے منزل کی طلب ہے
نہ دنیا کے مقام کی چاہ
بس ایک تیرا نام باقی ہے
جو میرے نفس کی آخری پناہ ہے

تو نہ رہا تو میں، اپنے ہی نام سے بیگانہ ہوا
تو نہ رہا تو میں، اپنی ہی پہچان سے ویران ہوا
تیری کمی نے مجھے، میرے اندر سے دور کیا
تو نہ رہا تو میں، اپنے ہی جہان سے بیگانہ ہوا

میں نے اپنے باطن کے آئینے میں دیکھا
ہر عکس تیرا انتظار بن گیا
میرے دل کا ہر ایک گوشہ
تیری یاد کا مزار بن گیا

میں نے خاموش راتوں میں
اپنی سانسوں کو سنا
ہر دھڑکن کے اندر
تیرا ہی نام ملا

یہ کیسا عشق ہے میرے یار
جو درد بھی ہے، قرار بھی ہے
یہ کیسی پیاس ہے میرے یار
جو آگ بھی ہے، بہار بھی ہے

اے میرے یار...
آ جا...
کہ میری روح کا صحرا
تیری ایک نظر کا پیاسا ہے

آ جا...
کہ میری شمعِ دل ابھی جل رہی ہے
تیری راہ میں پروانہ بن کر
یہ جان ابھی مچل رہی ہے

میں نے فراق کی آگ میں
اپنے غرور کو جلا دیا
میں نے اپنے نفس کے پردوں کو
تیری یاد سے ہٹا دیا

اب نہ میں باقی ہوں
نہ میری کوئی انا باقی ہے
تیری محبت کے در پر
بس ایک خاموش صدا باقی ہے

میں نے بقا کا راز پوچھا
تو تیری یاد نے جواب دیا
جو خود کو مٹا دے عشق میں
اسی نے خود کو پا لیا

نہ تاج کی خواہش رہی
نہ دنیا کے نام کی چاہ رہی
بس تیرے عشق کی راہ رہی
اور دل میں تیری پناہ رہی

تو نہ رہا تو میں، اپنے ہی نام سے بیگانہ ہوا
تو نہ رہا تو میں، اپنی ہی پہچان سے ویران ہوا
تیری کمی نے مجھے، میرے اندر سے دور کیا
تو نہ رہا تو میں، اپنے ہی جہان سے بیگانہ ہوا

اب میری حالت یہ ہے
کہ میں اپنی سانس کا بھی مسافر نہیں
میں تیرے فراق کی راہ میں
رہ جانے والی ایک صدا ہوں

میں وہ چراغ ہوں
جس کا تیل تیری یاد ہے
میں وہ راہی ہوں
جس کی منزل تیرا نام ہے

میرے یار...
میرے یار...
اے میرے یار...

آ جا... آ جا...
کہ دل اب بھی تیرا منتظر ہے
آ جا...
کہ یہ خاموش روح
اب بھی تیری خبر ہے

میں نے اپنے وجود کا لباس اتار دیا
فنا کے دریا میں خود کو بہا دیا
اب جو باقی ہے وہ تیرا عشق ہے
جو میری روح میں زندہ ہے

یہ فراق کوئی معمولی غم نہیں
یہ دل کی گہرائیوں کا سفر ہے
یہ وہ آگ ہے
جس میں جل کر انسان
اپنے اندر کے نور سے ملتا ہے

نہ میں سوال ہوں
نہ میں جواب ہوں
نہ میں سایہ ہوں
نہ میں خواب ہوں

میں تو تیرے عشق کی وہ صدا ہوں
جو زمانوں تک گونجتی رہے گی

تو نہ رہا تو میں، اپنے ہی نام سے بیگانہ ہوا
تو نہ رہا تو میں، اپنی ہی پہچان سے ویران ہوا
تیری کمی نے مجھے، میرے اندر سے دور کیا
تو نہ رہا تو میں، اپنے ہی جہان سے بیگانہ ہوا

اے میرے یار...
آ جا...

میری شمع ابھی جلتی ہے...
میرا پروانہ ابھی زندہ ہے...
میرا نفس ابھی تیرا نام لیتا ہے...

فنا کے بعد بھی...
بقا میں بھی...

بس تیرا عشق باقی ہے...

More by عبدالمجيد خاصخيلي

Make your own song with SoundLab AI