
باغ تمنا 🌹 شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
**فراقِ یار**
دریچۂ شب سے اترتی رہی، تیری خامشی کی خوشبو
چراغِ دل کی لو پر لرزتی رہی، ہجر کی زرد آبرو
میں صحنِ جاں میں اکیلا، تری آہٹ کا طواف کرتا رہا
اور وقت، کسی درویش کی طرح، میرے زخموں پر دعا لکھتا رہا
کہاں گئے وہ نرم سلام، وہ نیم شب کی دلنوازی
کہاں چھپ گئی وہ روشنی، وہ نگاہوں کی شیریں نیاز مندی
میں نے شکوۂ دل کو صبر کے سبز پردے میں لپیٹا
مگر ہر پردہ اٹھا تو سامنے تیری ہی جدائی کا چہرہ دکھا
باغِ تمنا میں اب خاردار ہوا کا بسیرا ہے
گل بھی خاموش ہیں، اور خوشبو پر بھی فراق کا اندھیرا ہے
میں نے تیری یاد کے نام پر جلایا ایک نازک سا دیپ
وہ دیپ بھی جیسے میرے مقدر کی طرح خاموش اور بے نصیب
ریل کی پٹری پر گرتی برسات، اور کھلے آسمان کا رونا
دور کسی بستی میں اذانِ سحر، اور میرا دل پھر سے سونا
میں نے ہر منزل کو تیری واپسی کے موہوم خیال سے دیکھا
مگر ہر راہ نے مجھے اپنے ہی ہجر کے شہر میں لا پھینکا
تری پیشانی کی لکیر میں میں نے تقدیر کا حرف پڑھا تھا
تری آنکھوں کے نیلگوں سمندر میں میں نے اپنا گھر رکھا تھا
اب وہی سمندر، لہروں کی جگہ، میری سانسیں ڈبو دیتا ہے
اور وہی تقدیر، میرے ہر خواب کو آہستہ آہستہ رو دیتی ہے
قندیلِ شب کے سامنے میں نے اپنے دل کی نذر رکھی
تیرے نام کی ایک تسبیح، اشکوں کی ایک لڑی میں پرو رکھی
ہر دانہ، ہر دعا، تیرے فراق کی شدت سے لرزاں تھا
اور ہر لرزش میں ایک شکستہ عاشق، خود اپنے آپ سے ناداں تھا
میں نے تجھے شکوہ بھیجا تھا، مگر جواب میں خامشی آئی
جیسے گلشن سے جدا ہو کر بھی، رت میں فقط خزاں ہی آئی
یہ کیسا فراق ہے جو وصال کے خواب بھی چھین لیتا ہے
اور عاشق کی ہر التجا کو گردِ سفر میں دھکیل دیتا ہے
شامِ غریباں میں پرندے، اپنے گھروں کو لوٹتے رہے
اور ہم تیری راہ میں اپنے ہی دل کے ویرانوں کو سمیٹتے رہے
ایک خالی صحن، ایک ٹوٹی محراب، اور تیری یاد کا صدقہ
بس یہی رہ گیا ہے اب، میرے شہرِ جاں کا آخری نقشہ
اگر تو لوٹ آئے تو شاید یہ شکستہ دل سنور جائے
شاید میرے لفظوں کی گرد میں پھر کوئی نیا گلاب اتر جائے
مگر اب بھی میں درِ ہجر پر، بے آواز سی دعا مانگتا ہوں
اور ہر دعا کے اندر، تیرے نام کا جلتا دیا مانگتا ہوں
فراقِ یار میں، میں نے صبر کو بھی زخمی ہوتے دیکھا ہے
دل کے آنگن میں ہر رشتہ، ہجر کی آگ میں پگھلتے دیکھا ہے
یہ غزل نہیں، میرے ٹوٹے ہوئے وقت کی سوگوار اذان ہے
اور اس کے ہر مصرع میں، تیری یاد کا کرب، تیری جدائی کی جان ہے