
آیک ۔۔ وہم ۔۔ شاعری عبد المجید خاصخیلی
Lyrics
ایک وہم ہے جسے عشق کہتے ہیں، اسی میں ہم ڈوب گئے
تو پاس نہ تھا، پھر بھی تیرے خوابوں کے ہم روبرو گئے
دل نے تری گلی کا پتا پوچھا ہر اک ہوا سے
ہم اپنے ہی گھر سے نکلے، تری سمت کو بےخود گئے
شب بھر تری یادوں نے چراغوں سے باتیں کیں
اشکوں نے مری آنکھ میں خاموش برساتیں کیں
تجھ کو خبر نہیں کہ ترے انتظار میں ہم نے
ویران دریچوں پہ بھی امید کی سوغاتیں کیں
تو سامنے آیا تو زمانہ بھی دھندلا گیا
اک نام لبوں پر تھا، سو دل میں اترتا گیا
ہم نے تری نگاہ کو قسمت سمجھ لیا
اور اپنا ہر یقیں اسی دھوکے پہ مرتا گیا
تیری ہنسی میں جیسے بہاروں کا رنگ تھا
تیری خموشیوں میں بھی اک سازِ چنگ تھا
ہم نے ترے سکوت کو غزلوں میں ڈھال کر
ہر دردِ بےزباں کو محبت کا ڈھنگ دیا
کیا خوب تھا وہ خواب، کہ تعبیر ہی نہ تھی
دل میں ترے سوا کسی تصویر ہی نہ تھی
ہم جس کو زندگی کا سہارا سمجھتے تھے
وہ ایک موج تھی، کوئی زنجیر ہی نہ تھی
اب بھی تری گلی سے گزرتی ہے شامِ غم
اب بھی ہوا سناتی ہے تیرا ہی زیر و بم
ہم نے بھلا دیا ہے تجھے کہہ تو دیا
پر دل کے آئینے پہ ہے تیرا ہی نقشِ نم
تو دور ہے تو دور سہی، دل سے کہاں گیا
اک درد بن کے روح کے اندر سما گیا
ہم نے ہزار بار اسے دل سے نکالا
ہر بار وہی شخص نئی صورت آ گیا
اس عشق نے ہمیں بھی عجب طور سے لکھا
آنکھوں میں خواب، ہونٹوں پہ خاموشی رکھ دی
ہم خاک تھے، مگر تری چاہت نے ایک پل
مٹی کے اس چراغ میں روشن سی لو رکھ دی
اب تیرے نام سے بھی دھڑکتا ہے دل مرا
جیسے کسی ویران میں بجتا ہو سازِ جاں
تو مل نہ سکا، یہ بھی مقدر کا کھیل تھا
پھر بھی تری چاہت رہی میری داستاں
ہم نے ترے فراق کو سینے سے یوں لگایا
جیسے کوئی فقیر خزانہ چھپا کے رکھے
دنیا نے پوچھا، عشق سے کیا حاصل ہوا؟
ہم ہنس دیے—کہ دل نے تجھے پا کے کھو دیا
ایک وہم ہے جسے عشق کہتے ہیں، اے صنم
اسی میں ڈوب کر بھی کنارا نہ مل سکا
ہم تو ترے خیال کے دریا میں بہہ گئے
اور تجھ کو اپنے دل کا اشارہ نہ مل سکا